اسرائیل نے انسانی حقوق کی تنظیموں کے طویل دباؤ کے بعد غزہ کی پٹی اور مصر کے درمیان واقع اہم راہداری رفح بارڈر کراسنگ کو جزوی طور پر کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم اس مرحلے پر کراسنگ صرف افراد کی آمد و رفت کے لیے محدود ہوگی، امدادی سامان کی ترسیل کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اسرائیلی وزارتِ دفاع کے ماتحت ادارے کوآرڈی نیٹر آف گورنمنٹ ایکٹیویٹیز اِن دی ٹیریٹریز (سی او جی اے ٹی) کے مطابق، رفح کراسنگ دونوں سمتوں میں کھولی جائے گی، لیکن صرف اُن افراد کو سفر کی اجازت ہوگی جنہیں اسرائیل کی جانب سے سکیورٹی کلیئرنس حاصل ہوگی۔ اس عمل کی نگرانی یورپی یونین مشن کے تحت کی جائے گی اور مصر سے مکمل رابطہ رکھا جائے گا۔
رفح راہداری مئی 2024 سے بند تھی، جب اسرائیلی افواج نے حماس کے ساتھ جاری جنگ کے دوران اس کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔ 2025 میں چند روز کے لیے محدود پیمانے پر اسے کھولا گیا تھا۔ اسرائیل کا مؤقف تھا کہ جب تک آخری اسرائیلی یرغمالی ران گوِلی کی باقیات واپس نہیں کی جاتیں، کراسنگ نہیں کھولی جائے گی۔ چند روز قبل ان کی باقیات برآمد ہونے کے بعد بدھ کو اسرائیل میں تدفین کی گئی۔
حکام کا کہنا ہےکہ پیر سے باقاعدہ آمد و رفت شروع کیے جانے کا امکان ہے۔ ابتدائی طور پر زخمی افراد کو غزہ سے باہر علاج کے لیے جانے کی اجازت دی جائے گی، تاہم یہ واضح نہیں کہ روزانہ کتنے افراد کو گزرنے دیا جائے گا یا غزہ واپس آنے والوں کو داخلے کی اجازت ہوگی یا نہیں۔
رفح کراسنگ غزہ کا واحد راستہ ہے جو اسرائیل کے بجائے براہِ راست مصر سے جڑتا ہے۔ یہ علاقہ اس وقت اسرائیلی افواج کے کنٹرول میں ہے، جو امریکی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے تحت نام نہاد زرد لیکر (ییلو لائن) کے پیچھے ہٹ چکی ہیں۔ جنگ بندی کا دوسرا مرحلہ جاری ہے، جس میں یرغمالیوں کی رہائی کے بعد رفح کراسنگ کو دوبارہ کھولنے کی شق شامل ہے۔
رفح کراسنگ کے کھلنے سے ایک 15 رکنی فلسطینی ٹکنوکریٹ کمیٹی نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ کے داخلے کی راہ بھی ہموار ہو گی، جو غزہ کے 22 لاکھ عوام کے روزمرہ امور چلانے کی ذمہ دار ہوگی۔ یہ کمیٹی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سربراہی میں قائم بورڈ آف پیس کی نگرانی میں کام کرے گی۔
دوسری جانب کراسنگ کی متوقع بحالی سے قبل بھی غزہ میں تشدد کا سلسلہ جاری رہا۔ ہفتے کے روز اسرائیلی فضائی حملوں میں بچوں سمیت کم از کم 32 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ یہ حملے جنگ بندی کی خلاف ورزی کے جواب میں کیے گئے تھے، جب آٹھ فلسطینی جنگجو رفح میں ایک سرنگ سے باہر نکلے تھے۔









