اہم ترین

بچوں کی فحش تصاویر اور ڈیپ فیک اسکینڈل: فرانس میں ایکس کے دفتر پر چھاپہ

ایلون مسک کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کے فرانس میں قائم دفاتر پر پیرس کے پراسیکیوٹر کی سائبر کرائم یونٹ نے چھاپہ مارا ہے۔ یہ کارروائی غیرقانونی ڈیٹا حاصل کرنے اور بچوں کی فحش تصاویر رکھنے میں مبینہ معاونت سمیت متعدد سنگین الزامات کی تحقیقات کے سلسلے میں کی گئی۔

فرانسیسی پراسیکیوٹر کے دفتر کے مطابق ایلون مسک اور ایکس کی سابق چیف ایگزیکٹو لنڈا یاکارینو کو اپریل میں سماعت کے لیے طلب کر لیا گیا ہے۔ تحقیقات کا دائرہ کار جنوری 2025 میں ایکس کے الگورتھم کی جانب سے متنازع مواد کی سفارشات سے شروع ہوا تھا، جسے جولائی میں مسک کے متنازع اے آئی چیٹ بوٹ گروک تک بڑھا دیا گیا۔

ایلون مسک نے ایکس پر ردعمل دیتے ہوئے اس کارروائی کو “سیاسی حملہ” قرار دیا، جبکہ کمپنی نے ایک بیان میں کہا کہ وہ اس اقدام پر “مایوس مگر حیران نہیں” اور پیرس پراسیکیوٹر کے دفتر پر “اختیارات کے غلط استعمال” کا الزام لگایا۔ ایکس نے کسی بھی غیرقانونی سرگرمی سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی آزادیٔ اظہار کے لیے خطرہ ہے۔

سابق سی ای او لنڈا یاکارینو نے بھی فرانسیسی حکام پر “امریکیوں کے خلاف سیاسی انتقام” لینے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ الزامات بے بنیاد ہیں۔

فرانسیسی حکام کے مطابق اب یہ جانچ کی جا رہی ہے کہ آیا ایکس بچوں کی فحش تصاویر رکھنے یا منظم انداز میں تقسیم کرنے، جنسی ڈیپ فیک کے ذریعے لوگوں کی شبیہ کے حقوق کی خلاف ورزی اور منظم فراڈ کے ذریعے ڈیٹا حاصل کرنے جیسے جرائم میں ملوث رہا ہے یا نہیں۔

برطانیہ میں نئی تحقیقات

دوسری جانب برطانیہ کے انفارمیشن کمشنر آفس (آئی سی او) نے ایکس کے اے آئی ٹول گروک کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، جس پر خواتین کی اجازت کے بغیر نازیبا اور جنسی نوعیت کی تصاویر اور ویڈیوز بنانے کے الزامات ہیں۔

یہ معاملہ جنوری میں اس وقت سامنے آیا جب متاثرین، آن لائن سیفٹی کارکنوں اور سیاستدانوں نے شدید ردعمل دیا۔ بعد ازاں کمپنی نے مداخلت کرتے ہوئے اس عمل کو روکنے کے اقدامات کیے۔

برطانوی ریگولیٹر اوفکوم نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے کو ہنگامی بنیادوں پر دیکھ رہا ہے، تاہم اس کے پاس چیٹ بوٹس کے حوالے سے براہ راست اختیارات نہ ہونے کے باعث تحقیقات محدود ہیں۔ اس کے فوراً بعد آئی سی او نے اوفکوم کے ساتھ مل کر ذاتی ڈیٹا کے استعمال سے متعلق اپنی الگ تحقیقات شروع کر دیں۔

یورپی یونین اور عالمی ردعمل

یورپی کمیشن نے بھی ایکس کی پیرنٹ کمپنی ایکس اے آئی کے خلاف تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔ کمیشن کے ترجمان کے مطابق فرانس کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

ادھر ٹیلیگرام کے بانی پاول دوروف نے فرانسیسی حکام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ فرانس واحد ملک بن چکا ہے جو اظہارِ رائے کی آزادی دینے والے تمام سوشل نیٹ ورکس کو مجرمانہ کارروائیوں کا نشانہ بنا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ آزاد ملک نہیں رہا۔

واضح رہے کہ پاول دوروف کو اگست 2024 میں فرانس میں گرفتار کیا گیا تھا، تاہم پلیٹ فارم کی پالیسی میں تبدیلیوں کے بعد انہیں ملک چھوڑنے کی اجازت دے دی گئی تھی۔

پاکستان