گوگل کی پیرنٹ کمپنی الفابیٹ نے ایسی سالانہ مالی کارکردگی پیش کی ہے جسے ماہرین ’بلاک بسٹر کمائی‘ قرار دے رہے ہیں۔ کمپنی کی آمدنی میں سالانہ بنیادوں پر 18 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ مجموعی سالانہ ریونیو پہلی بار 400 ارب ڈالر کی حد عبور کر گیا۔
اے ایف پی کے مطابق 1998 میں لیری پیج اور سرگئی برِن کے قائم کردہ ٹیکنالوجی دیو نے واضح کر دیا ہے کہ اس کامیابی کے پیچھے اصل طاقت مصنوعی ذہانت سے لیس کلاؤڈ کمپیوٹنگ ہے۔ تاہم الفابیٹ نے ساتھ ہی اعلان کیا کہ وہ 2026 میں اے آئی کی دوڑ میں آگے رہنے کے لیے اپنی سرمایہ کاری کو تقریباً دگنا کرنے جا رہی ہے۔
کمپنی کے مطابق رواں سال 175 سے 185 ارب ڈالر تک سرمایہ جاتی اخراجات متوقع ہیں، جو 2025 کے مقابلے میں دو گنا ہوں گے۔ چیف ایگزیکٹو سندر پچائی نے اعتراف کیا کہ اے آئی سروسز کی طلب اس قدر بڑھ چکی ہے کہ سپلائی اس کا ساتھ نہیں دے پا رہی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ کمپنی مسلسل اپنی کمپیوٹنگ صلاحیت بڑھا رہی ہے، لیکن اے آئی مصنوعات کے لیے صارفین کی مانگ بدستور کہیں زیادہ ہے۔ اسی پس منظر میں بعد از مارکیٹ ٹریڈنگ میں الفابیٹ کے شیئرز میں معمولی کمی بھی دیکھی گئی۔
اے آئی کے میدان میں گوگل کا Gemini پلیٹ فارم تیزی سے مقبول ہو رہا ہے اور اب اس کے ماہانہ صارفین کی تعداد 75 کروڑ تک پہنچ چکی ہے، جو پچھلی سہ ماہی کے مقابلے میں ایک کروڑ زیادہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ رواں سال گوگل، اے آئی کی دوڑ میں اوپن اے آئی کو بھی پیچھے چھوڑ سکتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کی آخری سہ ماہی میں الفابیٹ نے 113.8 ارب ڈالر کی آمدنی حاصل کی، جبکہ منافع 34.5 ارب ڈالر رہا۔ صرف کلاؤڈ کمپیوٹنگ سے حاصل ہونے والی آمدنی میں 48 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 17.7 ارب ڈالر تک جا پہنچی۔
گوگل کا بنیادی سرچ اور اشتہارات کا کاروبار اب بھی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، جس سے 82.3 ارب ڈالر کمائے گئے۔ یوٹیوب اشتہارات سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی بڑھ کر 11.4 ارب ڈالر ہو گئی۔
آن لائن اشتہارات سے آنے والا یہی سرمایہ گوگل کو اے آئی انفراسٹرکچر میں بھاری سرمایہ کاری کا موقع دے رہا ہے۔ کمپنی کے مطابق اب اس کے صارفین کی 325 ملین سے زائد پیڈ سبسکرپشنز ہیں، جن میں گوگل ون اور یوٹیوب پریمیم شامل ہیں۔
دوسری جانب الفابیٹ کا تجرباتی شعبہ ’ادر بیٹس‘ اب بھی خسارے میں ہے، جس میں خودکار گاڑیوں کا یونٹ وے مو شامل ہے۔ اگرچہ اس شعبے کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوا، مگر وے مو نے حال ہی میں 16 ارب ڈالر کی فنڈنگ حاصل کر کے اپنی قدر 126 ارب ڈالر تک پہنچا دی ہے۔
کمپنی کے مطابق وے مو نے گزشتہ سال اپنی سروس کو تین گنا بڑھایا اور اب امریکہ کے چھ بڑے شہروں میں ہر ہفتے چار لاکھ سے زائد خودکار سواریوں کی سہولت فراہم کر رہا ہے۔
یہ تمام اعداد و شمار اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ گوگل صرف کمائی نہیں کر رہا، بلکہ اے آئی کے مستقبل پر کھل کر سرمایہ لگا رہا ہے—اور یہی شرط اسے ٹیکنالوجی کی اگلی جنگ میں سبقت دلانے جا رہی ہے۔










