روس نے یوکرین کے توانائی نظام کو نشانہ بناتے ہوئے بڑے پیمانے پر نئے فضائی حملے کیے ہیں، جن میں پاور گرڈ، بجلی گھروں اور سب اسٹیشنز کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا۔ یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی کے مطابق رات بھر جاری رہنے والے ان حملوں میں 400 سے زائد ڈرونز اور تقریباً 40 مختلف اقسام کے میزائل استعمال کیے گئے۔
صدر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ مغربی یوکرین کے علاقوں وولین، ایوانو فرانکیفسک، لویو اور ریونے میں توانائی کی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روس کے پاس حقیقی سفارت کاری کا راستہ موجود ہے، مگر ماسکو روزانہ نئے حملوں کو ترجیح دے رہا ہے۔
انہوں نے امریکی ثالثی میں جاری مذاکرات کی حمایت کرنے والے ممالک سے اپیل کی کہ وہ ان تازہ حملوں پر واضح ردِعمل دیں اور روس پر دباؤ بڑھائیں۔ زیلنسکی نے زور دیا کہ ماسکو سرد موسم کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے، جسے روکنے کے لیے یوکرین کو فضائی دفاعی نظام کے لیے مزید میزائلوں کی اشد ضرورت ہے۔
ان روسی حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ ہمسایہ ملک پولینڈ میں بھی سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر لڑاکا طیارے فضا میں بلند کیے گئے۔ پولستانی فوج کے مطابق فورسز اور ضروری وسائل کو فوری طور پر متحرک کر دیا گیا جبکہ زمینی فضائی دفاع اور ریڈار سسٹمز کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا۔
یوکرین کے مغربی علاقوں پر حملوں کے اثرات مشرقی پولینڈ تک محسوس کیے گئے، جہاں ژیشوف اور لوبلن کے ہوائی اڈوں پر فضائی آمدورفت عارضی طور پر معطل کرنا پڑی۔
ماہرین کے مطابق روس کی جانب سے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا یوکرین پر دباؤ بڑھانے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جس سے سردیوں میں عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔











