اہم ترین

کروڑوں اینڈرائیڈ فون صارفین خطرے میں: ایک سیٹنگ نظرانداز کرنا مہنگا پڑ سکتا ہے

گوگل نے دنیا بھر کے اسمارٹ فون صارفین، خصوصاً اینڈرائیڈ فون استعمال کرنے والوں کے لیے ایک سنگین سیکیورٹی وارننگ جاری کر دی ہے، جس کے بعد کروڑوں صارفین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

گوگل کے مطابق بڑی تعداد میں اینڈرائیڈ فونز ایسے خطرات کی زد میں ہیں جہاں خطرناک مالویئر اور اسپائی ویئر آسانی سے حملہ آور ہو سکتے ہیں۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ اگر بروقت احتیاطی اقدامات نہ کیے گئے تو صارفین کا ذاتی ڈیٹا، تصاویر، ویڈیوز اور اہم معلومات سائبر مجرموں کے ہاتھ لگ سکتی ہیں، جس سے مالی اور نجی نقصان کا خدشہ ہے۔

گوگل کی اس وارننگ کی سب سے بڑی وجہ پرانے اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹمز ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اینڈرائیڈ 13 یا اس سے پرانے ورژنز پر چلنے والے اسمارٹ فونز سب سے زیادہ خطرے میں ہیں۔ دنیا بھر میں آج بھی بڑی تعداد میں صارفین ایسے ہی فون استعمال کر رہے ہیں۔

اندازوں کے مطابق تقریباً 40 فیصد اسمارٹ فونز اب بھی پرانے اینڈرائیڈ سسٹمز پر چل رہے ہیں، جن کی تعداد ایک ارب کے قریب بتائی جاتی ہے۔ ان ڈیوائسز کے لیے اب باقاعدہ سیکیورٹی اپ ڈیٹس جاری نہیں کی جاتیں، جس کی وجہ سے ہیکرز کے لیے ان میں نقب لگانا نسبتاً آسان ہو جاتا ہے۔

اینڈرائیڈ ورژنز کے جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ تازہ ترین اینڈرائیڈ 16 فی الحال بہت کم صارفین تک پہنچ پایا ہے جبکہ اینڈرائیڈ 15 بھی محدود ڈیوائسز میں استعمال ہو رہا ہے۔ اس کے مقابلے میں اینڈرائیڈ 14 اور اینڈرائیڈ 13 اب بھی بڑی تعداد میں چل رہے ہیں۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو صرف آدھے سے کچھ زیادہ اسمارٹ فونز ہی اس وقت نسبتاً محفوظ سمجھے جا رہے ہیں، جبکہ باقی ڈیوائسز ممکنہ سائبر خطرات کے دائرے میں آتی ہیں۔

پاکستان