اہم ترین

خبردار ! اینڈرائیڈ فون میں بیک گراؤنڈ ایپس بند کرنا پڑ سکتا ہے مہنگا

اکثر اینڈرائیڈ صارفین یہ سمجھتے ہیں کہ فون میں چلنے والی بیک گراؤنڈ ایپس بیٹری تیزی سے ختم کر دیتی ہیں، اسی لیے وہ انہیں بار بار فورس کلوز کر دیتے ہیں۔ مگر ماہرینِ ٹیکنالوجی کے مطابق یہ عادت فائدے کے بجائے فون کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

اینڈرائیڈ اسمارٹ فونز کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ صارف ایک ایپ سے دوسری ایپ پر بآسانی سوئچ کر سکے، جبکہ پہلی ایپ بیک گراؤنڈ میں محفوظ حالت میں رہتی ہے۔ جب صارف دوبارہ اسی ایپ پر جاتا ہے تو وہ وہیں سے شروع ہوتی ہے جہاں چھوڑی گئی تھی۔

جو صارفین ہر ایپ کو مکمل طور پر بند کر دیتے ہیں، انہیں یہ جان لینا چاہیے کہ اس عمل سے فون پر اضافی لوڈ پڑتا ہے اور بیٹری کی کھپت بھی بڑھ سکتی ہے۔

بیک گراؤنڈ ایپس فورس کلوز کرنے کے نقصانات

ماہرین کے مطابق جب کسی ایپ کو زبردستی بند کیا جاتا ہے تو اگلی بار اسے کھولنے پر فون کو ایپ کو مکمل طور پر ازسرِنو لوڈ کرنا پڑتا ہے۔
اس سے ایپ کھلنے میں زیادہ وقت لگتا ہے،ڈیٹا دوبارہ فِیچ کرنا پڑتا ہے۔بعض اوقات صارف کی پچھلی پروگریس بھی ضائع ہو جاتی ہے۔اس کے علاوہ بیٹری اور ریم پر غیر ضروری دباؤ پڑتا ہے

اینڈرائیڈ خود ہی بیٹری کا خیال رکھتا ہے

ماضی میں کمزور ہارڈویئر والے فونز میں بیک گراؤنڈ ایپس بند کرنا درست سمجھا جاتا تھا، لیکن آج کے جدید اینڈرائیڈ فونز میں اےآئی کی مدد سے چلنے والا ایڈیپٹیو بیٹری فیچر موجود ہے۔

یہ فیچر صارف کی روزمرہ عادات کو سیکھتا ہے، زیادہ استعمال ہونے والی ایپس کو ترجیح دیتا ہے اور غیر ضروری ایپس کو خودکار طور پر ڈیپ سلیپ موڈ میں ڈال دیتا ہے، جس سے بیٹری ضائع نہیں ہوتی۔

اسی لئے ماہرین کہتے ہیں کہ اگر کوئی ایپ واقعی خراب کام کر رہی ہو یا ہینگ ہو جائے تو اسے فورس کلوز کرنا ٹھیک ہے، لیکن روزانہ کی بنیاد پر تمام بیک گراؤنڈ ایپس بند کرنا نہ صرف غیر ضروری ہے بلکہ فون کی کارکردگی کے لیے نقصان دہ بھی ہو سکتا ہے۔

پاکستان