اہم ترین

ملک پر ریکارڈ قرضہ: ہر پاکستانی 4 لاکھ روپے کا مقروض

پاکستان کے بیرونی اور مقامی قرضوں کا مجموعی حجم ملکی تاریخ میں پہلی بار 78 ہزار ارب روپے کی حد عبور کر گیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2025 تک مجموعی قرضہ بڑھ کر 78 ہزار 529 ارب روپے تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 71 ہزار 647 ارب روپے تھا۔

اعداد و شمار کے مطابق صرف ایک سال میں قرضوں میں 9.6 فیصد جبکہ ایک ماہ میں 1.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ نومبر 2025 میں مجموعی قرضہ 77 ہزار 536 ارب روپے تھا جو دسمبر میں مزید بڑھ گیا۔

ملکی مقامی قرض پہلی بار 55 ہزار ارب روپے کی سطح عبور کر گیا۔ دسمبر 2024 میں مقامی قرضہ 49 ہزار 883 ارب روپے تھا جو دسمبر 2025 میں بڑھ کر 55 ہزار 363 ارب روپے ہو گیا۔ ایک سال میں مقامی قرضوں میں 11 فیصد جبکہ ایک ماہ میں 1.4 فیصد اضافہ ہوا۔

پاکستان کے بیرونی قرضے سالانہ بنیادوں پر 6.4 فیصد اضافے سے 23 ہزار 166 ارب روپے تک پہنچ گئے۔ نومبر کے مقابلے میں ایک ماہ میں بیرونی قرض 1.1 فیصد بڑھا۔

ملکی قرض، سود کی ادائیگیوں اور سرکاری ضمانتوں کی مجموعی رقم پہلی بار 87 ہزار ارب روپے سے تجاوز کر گئی ہے، جس نے معیشت پر دباؤ میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

پاکستان