اہم ترین

سام سنگ نے جدید ترین اے آئی میموری چِپس کی بڑے پیمانے پر پیداوار شروع کر دی

جنوبی کوریا کی ٹیکنالوجی کمپنی سام سنگ الیکٹرانکس نے اعلان کیا ہے کہ اس نے مصنوعی ذہانت کو طاقت فراہم کرنے والی نئی نسل کی میموری چِپس 4 ایچ ایم بی کی بڑے پیمانے پر پیداوار شروع کر دی ہے، جسے کمپنی نے صنعت میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا ہے۔

سام سنگ کے مطابق ایچ ایم بی 4 چِپس کی کمرشل شپمنٹ بھی صارفین کو شروع کر دی گئی ہے، جو اس ٹیکنالوجی میں صنعت کی پہلی مثال ہے۔ یہ چِپس بڑے ڈیٹا سینٹرز کی توسیع کے لیے نہایت اہم سمجھی جا رہی ہیں، جو مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کا مرکز ہیں۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ نئی 4 ایچ ایم بی چِپس پروسیسنگ اسپیڈ میں صنعتی معیار سے 40 فیصد زیادہ تیز ہیں، جو اے آئی کے لیے درکار اعلیٰ کارکردگی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کریں گی۔ امریکی ٹیکنالوجی جائنٹ این ویڈیا کو سام سنگ کا بڑا خریدار تصور کیا جا رہا ہے۔

مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز کی عالمی دوڑ کے باعث ہائی بینڈوڈتھ میموری چِپس کی مانگ میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد جنوبی کوریا اسٹاک ایکسچینج میں سام سنگ الیکٹرانکس کے شیئرز میں 6 فیصد سے زائد اضافہ دیکھا گیا۔

جنوبی کوریا کی حکومت پہلے ہی اعلان کر چکی ہے کہ وہ امریکا اور چین کے ساتھ دنیا کی ٹاپ تین اے آئی طاقتوں میں شامل ہونا چاہتی ہے۔ سام سنگ اور اس کی مقامی حریف ایس کے ہائنکس پہلے ہی ہائی پرفارمنس میموری چِپس کے بڑے عالمی پروڈیوسرز میں شامل ہیں۔

ماہرین کے مطابق 4 ایچ ایم بی کی جلد پیداوار نے سام سنگ کو اس سخت مقابلے میں سبقت دلا دی ہے، خاص طور پر اس وقت جب کمپنی 3 ایچ ایم بی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئی تھی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اے آئی چِپس پر توجہ کے باعث مستقبل میں صارفین کی الیکٹرانک مصنوعات مہنگی ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے۔

پاکستان