روس نے مقامی قوانین کی پاسداری نہ کرنے پر دنیا کی مقبول میسجنگ ایپ واٹس ایپ کو ملک بھر میں بلاک کر دیا ہے۔ کریملن نے اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے روس کے تقریباً 10 کروڑ صارفین کو مقامی میسجنگ ایپ میکس استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق روسی ایوان صدر کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ واٹس ایپ کی بندش کا فیصلہ کر لیا گیا ہے اور اس پر مکمل عملدرآمد بھی ہو چکا ہے۔ واٹس ایپ نے روسی قوانین اور ضابطوں کی تعمیل سے انکار کیا، جس کے باعث یہ قدم اٹھانا پڑا۔
پیسکوف کا کہنا تھا کہ میکس ایک قومی میسنجر ہے، جو صارفین کے لیے دستیاب اور ترقی کے مراحل میں ہے، اور یہ روسی شہریوں کے لیے ایک متبادل فراہم کرتا ہے۔
واٹس ایپ، جو امریکی سوشل میڈیا کمپنی میٹا کی ملکیت ہے، نے اس اقدام کو پیچھے کی جانب قدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ روس صارفین کو زبردستی مقامی ایپ پر منتقل کرنا چاہتا ہے۔ کمپنی کے مطابق وہ صارفین کو آپس میں جڑے رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھے گی۔
دوسری جانب انسانی حقوق کے کارکنوں اور ناقدین کا کہنا ہے کہ میکس میں اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن موجود نہیں، جس کے باعث یہ ایپ ریاستی نگرانی اور ڈیجیٹل کنٹرول کا ایک ممکنہ ذریعہ بن سکتی ہے۔
واضح رہے کہ روسی انٹرنیٹ نگران ادارے نے ٹیلیگرام پر بھی مرحلہ وار پابندیوں کا عندیہ دیا ہے، جس پر مقامی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ اقدامات روس میں انٹرنیٹ آزادی پر مزید قدغن اور ڈیجیٹل کنٹرول کے نئے مرحلے کی علامت ہیں۔











