زمبابوے نے طاقتور آسٹریلیا کو 23 رنز سے شکست دے کر ٹی 20 عالمی کپ کی تاریخ کا ایک اور یادگار اپ سیٹ رقم کر دیا۔
کولمبو کے آر پریماداسا اسٹیڈیم میں کھیلے گئے گروپ بی کے مقابلے میں کپتان سکندر رضا کی قیادت میں زمبابوے نے نا صرف آسٹریلیا کو چاروں شانے چت کیا بلکہ دو فتوحات کے ساتھ گروپ میں دوسری پوزیشن بھی حاصل کر لی۔
یہ زمبابوے کی آسٹریلیا کے خلاف ٹی-20 عالمی کپ میں دوسری تاریخی فتح ہے۔ اس سے قبل 2007 میں بھی زمبابوے نے کینگروز کو حیران کر دیا تھا، اور اب ایک بار پھر تاریخ نے خود کو دہرایا۔
ٹاس جیت کر آسٹریلیا نے پہلے گیندبازی کا فیصلہ کیا، مگر زمبابوے کے بلے بازوں نے اس فیصلے کو غلط ثابت کر دیا۔
اوپنر برائن بینیٹ نے شاندار ناٹ آؤٹ 64 رنز بنا کر اننگز کو مضبوط بنیاد فراہم کی۔ ان کے ساتھ تدیوناشے مرومانی نے صرف 21 گیندوں پر 35 رنز کی برق رفتار اننگ کھیلی۔
درمیانی اوورز میں ریان برل (35) اور کپتان سکندر رضا نے 13 گیندوں پر دھواں دار 25 ناٹ آؤٹ رنز بنا کر اسکور کو 169 تک پہنچا دیا، جو دباؤ والا ہدف ثابت ہوا۔
آسٹریلیا کی جانب سے بولنگ میں صرف مارکس اسٹوئنس اور کیمرون گرین ایک ایک وکٹ حاصل کر سکے۔
بین ڈوارشوئس، گلین میکسویل، ناتھن ایلس اور ایڈم زیمپا جیسے تجربہ کار بولرز زمبابوے کے سامنے بے بس دکھائی دیے اور رنز کی برسات ہوتی رہی۔
170 رنز کے تعاقب میں آسٹریلیا کی شروعات خوفناک ثابت ہوئیں۔ پاور پلے میں ہی چار وکٹیں گر گئیں اور اسکور صرف 38 رنز تھا۔
جوش انگلس، کیمرون گرین، ٹم ڈیوڈ اور ٹریوس ہیڈ جیسے بڑے نام جلد پویلین لوٹ گئے۔
اگرچہ میٹ رینشا (65) اور گلین میکسویل (31) نے 77 رنز کی شراکت داری سے امید جگائی، مگر آخری اوورز میں زمبابوے کے بولرز نے شکنجہ کس لیا اور پوری ٹیم 146 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔
زمبابوے کی فتح کے اصل ہیرو بلیسنگ مزربانی رہے، جنہوں نے 4 اوورز میں صرف 17 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں۔ ان کے شاندار اسپیل پر انہیں پلیئر آف دی میچ قرار دیا گیا۔
بریڈ ایوانس نے بھی 3.3 اوورز میں 3 وکٹیں لے کر آسٹریلوی بیٹنگ کی کمر توڑ دی۔ یوں زمبابوے نے تاریخ رقم کر دی۔
ٹی-20 عالمی کپ کی تاریخ میں زمبابوے اور آسٹریلیا کے درمیان اب تک صرف دو میچ کھیلے گئے ہیں اور دونوں میں فتح زمبابوے کے نام رہی ہے!











