اہم ترین

بنگلا دیش انتخابات: بی این پی کو دو تہائی اکثریت حاصل، طارق رحمان نئے وزیراعظم

بنگلادیش میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے پارلیمانی انتخابات میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ جس کے بعد17سال سے جلا وطن طارق رحیم کے وزیر اعظم بننے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔

بنگلا دیش میں گزشتہ روز 12 فروری کو عام انتخابات ہوئے تھے۔ پولنگ مکمل ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی رات بھر جاری رہی۔

بی این پی پارلیمنٹ میں کم از کم دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کی راہ پر ہے اور سرکاری نتائج کے مطابق اس نے 204 نشستیں جیت لی ہیں، جو دو تہائی اکثریت کے ہدف سے صرف پانچ نشستیں کم ہیں۔ جماعت اسلامی دوسری پوزیشن پر ہے جس کے پاس 76 نشستیں ہیں۔

بی این پی کے سیکریٹری جنرل مرزا فخرالاسلام عالمگیر نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی جماعت نے انتخابات میں دو تہائی اکثریت حاصل کر لی ہے۔ انھوں نے کہا کہ کالعدم عوامی لیگ، جس کی قیادت شیخ حسینہ کر رہی تھیں، بنگلہ دیش کی سیاست میں جماعتِ اسلامی کے ابھرنے کی ذمہ دار ہے۔

بی این پی نے اپنے رہنماؤں اور حامیوں سے کہا ہے کہ وہ فتح کی ریلیوں یا عوامی تقریبات سے گریز کریں۔ ہم قوم سے آج (13 فروری) دعا کے دن کے طور پر گزارنے کی اپیل کرتے ہیں تاکہ بنگلا دیش کے مستقبل کے لیے امن، استحکام اور رہنمائی حاصل ہو۔

انتخابینتائج کی روشنی میں بی این پی کے سربراہ 60 سالہ طارق رحمان کا وزیر اعظم بننا تقریباً یقینی ہے۔ وہ سابق وزیراعظم خالدہ ضیاء اور سابق صدر ضیاء الرحمان کے بڑے صاحبزادے ہیں۔ ضیاء الرحمان بی این پی کے بانی تھے اور 1981 میں ایک فوجی بغاوت کے دوران قتل کر دیے گئے تھے۔ رحمان سترہ برس سے زائد خود ساختہ جلاوطنی کے بعد گزشتہ سال دسمبر میں وطن واپس آئے۔

پاکستان