تیز ہواؤں، برفانی طوفان اور منفی درجۂ حرارت میں صرف بوٹس، شارٹس اور ایک بیگ کے ساتھ گھنٹوں پیدل چلنا عام انسان کے لیے بقا کی جنگ ہو سکتی ہے مگر ولادیمیر اسٹیوانووچ کے لیے یہ محض ایک پُرسکون سیر ہے۔
اے ایف پی کےمطابق 41 سالہ ماہرِ آثارِ قدیمہ ولادیمیر اسٹیوانووچ سوشل میڈیا پر سربیا کے آئس مین کے نام سے مشہور ہیں، وہ گزشتہ پندرہ برس سے برف سے ڈھکے پہاڑوں پر چہل قدمی، برف میں مراقبہ اور منجمد جھیلوں میں غوطہ خوری کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائے ہوئے ہیں۔
ولادیمیر اسٹیوانووچ کے مطابق ان کا اب تک کا سب سے سخت تجربہ منفی 10 ڈگری سینٹی گریڈ میں سات گھنٹے گزارنا تھا وہ بھی سینے سے کپڑے اتار کر، صرف ہائیکنگ بوٹس اور رننگ شارٹس میں۔
وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ 15 منٹ تک برفیلے پانی میں تیرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ آپ خود کو سردی کے حوالے کر دیتے ہیں، کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ سردی آپ کو نقصان نہیں پہنچائے گی۔
ان کی یہ غیر معمولی سرگرمیاں انہیں انسٹاگرام پر ہزاروں فالوورز دلا چکی ہیں مگر ولادیمیر اسٹیوانووچ کہتے ہیں کہ وہ نہ ریکارڈز کے لیے یہ سب کرتے ہیں اور نہ شہرت کے لیے۔ جب میں پانی میں اترتا ہوں تو میرا مقصد مراقبے کی کیفیت حاصل کرنا ہوتا ہے۔
حالیہ برسوں میں کولڈ ایکسپوژر تھراپی یعنی آئس باتھ اور منجمد جھیلوں میں تیراکی دنیا بھر میں مقبول ہوئی ہے۔ اس نظریے کے سب سے بڑے علمبردار نیدرلینڈز کے وِم ہوف سمجھے جاتے ہیں۔
اگرچہ بعض سائنسی شواہد اس کے چند فوائد کی تائید کرتے ہیں، مگر ماہرینِ طب خبردار کرتے ہیں کہ انتہائی سردی بعض بیماریوں کو متحرک بھی کر سکتی ہے۔
اسٹیوانووچ ایک مارشل آرٹس کے ماہر بھی ہیں، اورشوقین افراد کو خبردار کرتے ہیں کہ اچانک برفیلے پانی میں کودنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے ایک دو سیکنڈ بہت تکلیف دہ ہوتے ہیں، پھر جسم آہستہ آہستہ پرسکون ہو جاتا ہے—اور سردی محسوس نہیں ہوتی۔یہ ہمیں کسی اور چیز کے بارے میں سوچنے نہیں دیتی—اور یہی بات تناؤ کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ مہم جوئی سے بھرپور زندگی کی وجہ سے ان کے اہلِ خانہ اور دوست زیادہ حیران نہیں ہوتے۔ ان کے لیے یہ ایک قدرتی عمل تھالیکن باقی سب کے لیے یہ کچھ زیادہ ہی عجیب تھا۔











