جبل پور: فلمی دنیا میں ایک بار پھر اظہارِ رائے اور سماجی حساسیت کے درمیان کشمکش کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ اداکار منوج باجپئی سے منسوب فلم گھوس خور پنڈت اب مدھیہ پردیش کے شہر جبل پور کی ضلع عدالت میں قانونی جانچ کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں اس حوالے سے دائر شکایت پر 20 فروری کو سماعت ہوگی۔
ذرائع کے مطابق، شکایت فلم کے عنوان کو توہین آمیز قرار دیتے ہوئے پیش کی گئی ہے۔ درخواست گزار ویبھو پاٹھک کا مؤقف ہے کہ فلم کے نام میں استعمال ہونے والا لفظ ایک مخصوص برادری کی سماجی شناخت کو نقصان پہنچاتا ہے اور اس سے عوامی جذبات مجروح ہو سکتے ہیں۔
ضلع عدالت نے ابتدائی جانچ کے بعد فرسٹ کلاس جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں بیانات قلم بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس قانونی کارروائی میں فلم کے پروڈیوسر نیرج پانڈے اور او ٹی ٹی پلیٹ فارم نیٹ فلکس کے سربراہ ریڈ ہیسٹنگز کو بھی ممکنہ ذمہ داران کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔
اس سے قبل سپریم کورٹ آف انڈیا نے بھی فلم کے عنوان پر سخت ریمارکس دیتے ہوئے واضح کیا تھا کہ آزادیٔ اظہار کا دائرہ کسی بھی طبقے کی تضحیک تک نہیں پھیلایا جا سکتا۔ عدالت نے فلم کی ریلیز کو نام کی تبدیلی سے مشروط کرتے ہوئے پروڈیوسر سے وضاحتی حلف نامہ بھی طلب کیا تھا۔
عدالتی دباؤ کے بعد فلم سے متعلق تمام تشہیری مواد، بشمول پوسٹرز اور ٹیزرز، سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے ہٹا لیے گئے ہیں۔ تاحال فلم کے نئے عنوان کا اعلان نہیں کیا گیا، جس کے باعث اس کی متوقع ریلیز غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔
اب سب کی نظریں 20 فروری کی سماعت پر جمی ہیں، جہاں یہ طے ہوگا کہ فلم ساز نیا نام اختیار کر کے آگے بڑھتے ہیں یا منصوبہ وقتی طور پر روک دیا جاتا ہے۔











