اہم ترین

انسانوں کی بھرتی بند کرو؟ ٹیک ماہرین میں بحث چھڑ گئی

امریکی شہر سان فرانسسکو میں ہونے والی ایک بڑی ٹیک کانفرنس میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے اثرات پر شدید بحث دیکھنے میں آئی۔ کانفرنس کے داخلی دروازے پر ایک چونکا دینے والا جملہ انسانوں کو بھرتی کرنا چھوڑ دو درج تھا

اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق دنیا کی صف اول کی ٹیک کمپنیوں نے اب کھل کراے آئی کو ملازمتوں میں کمی کی وجہ بتانا شروع کر دیا ہے۔ کئی کمپنیوں کا دعویٰ ہے کہ اے آئی اب ان کے 50 فیصد تک کام سنبھال رہا ہے۔

اے آئی جہاں دنیا بھر میں ترقی کا دروازہ کھول رہا ہے تو وہیں کئی خطرات بھی پیدا کر رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اے آئی کی وجہ سے اب انٹری لیول نوکریوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔ 2019 سے 2024 کے درمیان نئے امیدواروں کی بھرتی میں 50 کمی آئی ہے۔

تاہم کچھ ماہرین اسے اخراجات کم کرنے کے لئے اے آئی کا بہانہ قرار دے رہے ہیں۔ چیٹ جی پی ٹی کے سیم آلٹمین اور دیگر ٹیک لیڈرز کے مطابق اے آئی ہر صنعت اور ہر نوکری کو بدل دے گا۔

اسی طرح ایمیزون ویب سروسز کے سی ای او میٹ جرمن نے کہا اے آئی ہر کمپنی اور ہر کام کے طریقے کو تبدیل کر دے گا۔ہمیں علم پر مبنی نوکریوں کے خاتمے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔

ماہرین کے مطابق ماضی کی گلوبلائزیشن میں اصل غلطی تبدیلی نہیں بلکہ اس کی تیاری نہ کرنا تھی۔ مستقبل میں صرف تکنیکی مہارتیں کافی نہیں ہوں گی۔ تنقیدی سوچ، رابطہ کاری ، کمیونیکیشن، ٹیم ورک اور فیصلہ سازی سب سے بڑی ضرورت ہے۔

ماہرین ایک ایسے مستقبل کا تصور پیش کر رہے ہیں جہاں اے آئی رات بھر کام کرے گا اور انسان صبح نتائج کا جائزہ لے گا۔ پھر اے آئی دوبارہ خودکار طریقے سے کام جاری رکھے گا۔

لیکن اس کے ساتھ ایک تشویش بھی ہے کہ نئی نسل شاید کبھی مکمل کام خود نہ کر پائے جو ایک پریشان کن حقیقت ہو سکتی ہے۔

پاکستان