مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکا کی کارروائیوں کے بعد تیل کی ترسیل شدید متاثر ہوئی ہے۔ خلیجی علاقے سے شپمنٹس تقریباً چھ ہفتوں سے معطل ہیں، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ میں بے چینی پھیل گئی ہے۔ لیکن چین اس بحران کے لیے پہلے سے تیار تھا۔
اے ایف پی کے مطابق چین طویل عرصے سے توانائی کے متبادل ذرائع پر کام کررہا تھا۔ ان میں بڑے پیمانے پر اسٹریٹجک تیل ذخائر ، درآمدی ذرائع میں تنوع اور توانائی کے متبادل ذرائع جیسے اقدامات شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چین اپنے پڑوسی ممالک جیسے جاپان اور فلپائن کے مقابلے میں بہتر پوزیشن میں ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کی قابلِ تجدید توانائی پالیسی اب رنگ لا رہی ہے۔ ہوا ، سولر سسٹمز اور ایمٹمی بجلی گھروں کی فعالیت نے چین کو توانائی کے ممکنہ بحران سے بچارکھا ہے۔ ان ذرائع سے صنعتی علاقوں میں تیل اور گیس پر انحصار کم ہوچکا ہے۔
چینی صدر جن شی پنگ نے بھی نئے توانائی نظام کی تعمیر تیز کرنے پر زور دیا ہے تاکہ عالمی کشیدگی کے دوران توانائی کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
چین میں اگرچہ مجموعی صورتحال قابو میں ہے، مگر شین ڈونگ میں واقع کچھ شعبے چھوٹی آئل ریفائنریز متاثر ہو رہی ہے۔ آبنائے ہرمز بند ہونے سے قطر سے ہیلیم کی فراہمی رک گئی ہے جس کی وجہ سے سیمی خنڈیکٹرز کی تیاری متاثر ہورہی ہے۔
ماہرین کے مطابق فوری توانائی بحران سے زیادہ بڑا خطرہ عالمی معاشی سست روی ہے، جو اس جنگ کے باعث پیدا ہو سکتی ہے۔
چین کی طویل المدتی توانائی حکمت عملی نے اسے موجودہ بحران میں مضبوط رکھا ہے، مگر مکمل طور پر محفوظ نہیں۔اگر کشیدگی طویل ہو گئی تو معیشت کے مختلف شعبوں پر اس کے اثرات مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔











