اہم ترین

اسپین نے چین کے ساتھ تجارتی عدم توازن کو ’ناقابلِ برداشت‘ قرار دے دیا

اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے چین اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی عدم توازن کو “ناقابلِ برداشت” قرار دیتے ہوئے بیجنگ پر زور دیا ہے کہ وہ یورپی مصنوعات کے لیے اپنی منڈی مزید کھولے۔

یہ بیان انہوں نے اپنے تین روزہ دورہ چین کے آغاز پر دیا، جہاں وہ دو طرفہ معاشی تعلقات کو مضبوط بنانے کے خواہاں ہیں۔

سانچیز نے سنگھوا یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یورپ کو بند ہونے سے بچانے کے لیے چین کو اپنی مارکیٹ کھولنی ہوگی۔ ان کے مطابق یورپی یونین کو درپیش تجارتی خسارہ گزشتہ سال مزید 18 فیصد بڑھا، جو درمیانی اور طویل مدت میں ناقابلِ برداشت ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق، اسپین کو گزشتہ سال چین کے ساتھ 42.3 ارب یورو کا تجارتی خسارہ ہوا، جو ملک کے مجموعی خسارے کا تقریباً 74 فیصد بنتا ہے۔

یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں اور ٹیرف اقدامات نے مغربی ممالک میں تشویش پیدا کر دی ہے، اور برطانیہ، کینیڈا اور جرمنی سمیت کئی ممالک چین کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سانچیز اس دورے کے دوران زرعی اور صنعتی مصنوعات کے لیے چینی منڈی تک زیادہ رسائی حاصل کرنے، ٹیکنالوجی کے شعبے میں مشترکہ منصوبوں کی تلاش اور سرمایہ کاری بڑھانے پر بھی توجہ دے رہے ہیں۔ اس سلسلے میں وہ چینی ٹیکنالوجی کمپنی شیاؤمی کے ہیڈکوارٹر کا دورہ بھی کریں گے۔

منصوبے کے مطابق، ہسپانوی وزیراعظم شی جن پنگ اور وزیر اعظم لی چیانگ سمیت اعلیٰ چینی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔

ماہرین کے مطابق اسپین کو چین کی نظر میں ایک ایسے “گیٹ وے” کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو یورپ، لاطینی امریکہ اور شمالی افریقہ تک رسائی فراہم کر سکتا ہے۔

چینی وزارت خارجہ نے بھی اسپین کو یورپی یونین میں ایک اہم شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دورہ دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا موقع فراہم کرے گا۔

پاکستان