اہم ترین

آبنائے ہرمز ناکہ بندی: برطانیہ کا امریکا کا ساتھ دینے سے انکار

برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے واضح کیا ہے کہ برطانیہ، امریکا کی جانب سے ایران کی بندرگاہوں اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحری ناکہ بندی کا حصہ نہیں بنے گا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق پیر کی شام سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی شروع کر دی جائے گی۔ صدر ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ اس کا مقصد آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں صاف کرنا اور اسے عالمی تجارت کے لیے کھولنا ہے۔ تاہم امریکا کے قریبی اتحادی ملک برطانیہ نےامریکا کے کسی بھی جارحانہ عمل کا حصہ بننے سےانکار کردیا ہے۔

بی بی سی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ہم اس ناکہ بندی کی حمایت نہیں کر رہے، برطانیہ اس جنگ میں نہیں کودے گا۔

اسٹارمر کا کہنا تھا کہ برطانیہ کی توجہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے پر مرکوز ہے تاکہ عالمی سطح پر تیل کی سپلائی (جو کہ کل سپلائی کا 20 فیصد ہے) بحال ہو سکے۔ خطے میں موجود برطانوی بحری جہاز اپنے معمول کے آپریشنز جاری رکھیں گے لیکن وہ امریکی ناکہ بندی میں شامل نہیں ہوں گے۔

برطانیہ کی طرح یورپی ممالک اور دیگر اہم ملکوں نے بھی امریکی ناکہ بندی کا ساتھ دینےکےبجائے معاملےکو افہام وتفہیم سےحل کرنےکا عندیہ دیا ہے۔

فرانس کے صدر میکرون نے برطانیہ کے ساتھ مل کر ایک کثیر الملکی کانفرنس بلانے کا اعلان کیا ہے تاکہ جہاز رانی کی آزادی کو بحال کیا جا سکے، تاہم انہوں نے اسے جنگجو فریقین سے الگ رکھنے پر زور دیا ہے۔

اسپین نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کو بے معنی قرار دیتے ہوئے اسے حالات کو مزید بگاڑنے کی کوشش قرار دیا۔

ترکیہ نے ایران کے ساتھ مذاکرات اور قائل کرنے کے طریقوں پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولنا چاہیے۔

چین نے امریکی منصوبے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی اور استحکام عالمی برادری کے مشترکہ مفاد میں ہے، اور فریقین کو جنگ دوبارہ شروع کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔

پاکستان