اہم ترین

ایران امریکا جنگ بندی پھر خطرے میں: خام تیل کی قیمتیں پھر 100 ڈالر سے متجاوز

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ ایک خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے جہاں امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کی مکمل بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا ہے، جس کے جواب میں تہران نے اسے عالمی قزاقی قرار دیتے ہوئے سخت جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔

ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نازک موڑپر آگئی ہے۔جس کے اثرات ناصرف مشرق وسطی بلکہ پوری دنیاکی معیشت پر پڑ رہے ہیں۔

دونوں ممالک کی جانب سے ایک بھی غلط فیصلہ دوبارہ خطےکو جنگ میں دھکیل دےگا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ایرانی بندرگاہوں کی طرف جانے والے تمام بحری جہازوں کو روکا جائے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مخصوص جارحانہ انداز میں کہا ہے کہ انہیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ ایران مذاکرات کی میز پر واپس آتا ہے یا نہیں۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول کا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی فوج نے متنبہ کیا ہے کہ اگر ان کی بندرگاہوں کو نشانہ بنایا گیا تو خلیج کی کوئی بھی بندرگاہ محفوظ نہیں رہے گی۔

خطے کی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے چین نے جہاز رانی کی آزادی پر زور دیتے ہوئے امریکا اور ایران سے جنگ بندی پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا ہے۔

روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے ایران کا افزودہ شدہ یورینیم اپنے پاس رکھنے کی پیشکش کی ہے تاکہ کسی ممکنہ امن معاہدے کی راہ ہموار ہو سکے۔

برطانیہ اور فرانس نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی بحالی کے لیے ایک پرامن کثیر الملکی مشن کی تجویز دی ہے۔ دوسری جانب جرمنی کے چانسلر فریڈرک میرز نے خبردار کیا ہے کہ اس جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے توانائی کے بحران کے اثرات طویل عرصے تک محسوس کیے جائیں گے۔

دوسری جانب امن مذاکرات کی ناکامی اور ناکہ بندی کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی ہیں۔

پاکستان