مصنوعی ذہانت (اےائی) پر مبنی چیٹ بوٹس کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے اور گوگل کا اےآئی اسسٹنٹ جیمنی بھی دنیا بھر میں مقبولیت حاصل کر چکا ہے۔ طلبہ، ملازمین، کانٹینٹ کریئیٹرز اور عام صارفین روزمرہ معلومات حاصل کرنے اور مختلف کاموں کے لیے اس پلیٹ فارم سے مدد لیتے ہیں۔ تاہم کئی اردو بولنے والے صارفین شکایت کرتے ہیں کہ بعض اوقات جیمنئی کے جوابات ضرورت سے زیادہ کتابی یا ترجمہ شدہ محسوس ہوتے ہیں۔
خوش آئند بات یہ ہے کہ گوگل نے جیمنی میں ایسے فیچرز شامل کیے ہیں جن کی مدد سے صارفین اے آئی کو اپنی پسند اور ضرورت کے مطابق ڈھال سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے جیمنی میں موجود انسٹرکشنز آف جیمنئی فیچر استعمال کیا جا سکتا ہے، جہاں صارف اپنی ترجیحات درج کر سکتا ہے۔
اس فیچر کے ذریعے صارف جیمنی کو بتا سکتا ہے کہ جوابات آسان اردو میں دیے جائیں، تکنیکی موضوعات سادہ انداز میں سمجھائے جائیں، مختصر اور براہِ راست جواب فراہم کیے جائیں یا معلومات مثالوں کے ساتھ پیش کی جائیں۔ اسی طرح پروفیشنل انداز میں تحریر، بلاگ، رپورٹس یا سوشل میڈیا پوسٹس تیار کرنے کے لیے بھی مخصوص ہدایات دی جا سکتی ہیں۔
جیمنی میں یہ فیچر استعمال کرنے کے لیے صارف کو ایپ یا ویب سائٹ میں اپنی پروفائل تصویر پر کلک کرکے سیٹنگز میں جانا ہوگا، جہاں پرسنل انٹیلی جنس کے تحت انسٹرکشنز آف جیمنئی کا آپشن موجود ہوتا ہے۔ ایک بار ہدایات درج کرنے کے بعد اےائی آئندہ گفتگو میں انہیں مدنظر رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔
علاوہ ازیں صارفین جیمنی کی بنیادی زبان بھی تبدیل کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے سیٹنگز میں موجود لینگوئجز (زبانیں) آپشن کے ذریعے اردو کو بنیادی زبان کے طور پر منتخب کیا جا سکتا ہے، جس سے مجموعی تجربہ مزید بہتر ہو جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر صارف اپنی روزمرہ زبان میں سوالات پوچھیں تو جیمنئی ان کی ضرورت کو زیادہ مؤثر انداز میں سمجھ سکتا ہے۔
اسی طرح جیمنئی لائیو فیچر کے ذریعے آواز کے ذریعے گفتگو بھی کی جا سکتی ہے، جو بہت سے صارفین کے لیے زیادہ آسان اور قدرتی طریقہ ثابت ہو سکتا ہے۔
ٹیکنالوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ پرسنلائزیشن فیچرز کے استعمال سے جیمنی صرف ایک عام اےآئی چیٹ بوٹ نہیں رہتا بلکہ صارف کی ضروریات اور اندازِ گفتگو کے مطابق کام کرنے والا ایک ذاتی معاون بن سکتا ہے۔











