سوشل میڈیا کمپنی میٹا کو اس وقت شدید تنقید کا سامنا ہے جب ہیکرز نے کمپنی کے اے آئی سپورٹ چیٹ بوٹ کو دھوکا دے کر متعدد ہائی پروفائل انسٹاگرام اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کر لی۔ ماہرینِ سائبر سیکیورٹی نے اس واقعے کو مصنوعی ذہانت پر ضرورت سے زیادہ انحصار کے خطرناک نتائج میں سے ایک قرار دیا ہے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی رائیٹرز کے مطابق ہیکرز نے میٹا کے خودکار سپورٹ سسٹم کو اس بات پر آمادہ کر لیا کہ وہ صارفین کی شناخت کی مکمل تصدیق کے بغیر اکاؤنٹس کے لاگ اِن اور پاس ورڈ سے متعلق معلومات ری سیٹ کر دے۔ اس خامی کے باعث کئی معروف اکاؤنٹس ہیکرز کے قبضے میں چلے گئے۔
متاثر ہونے والے اکاؤنٹس میں سابق امریکی صدر کے دور کا اوباما وائٹ ہاؤس انسٹاگرام پیج، معروف بیوٹی برانڈ سیفورا اور امریکی خلائی فورس کے ایک اعلیٰ عہدیدار کا اکاؤنٹ بھی شامل بتایا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق حملہ آوروں نے پرامپٹ انجیکشن نامی تکنیک استعمال کی، جس کے ذریعے اے آئی سسٹم کو گمراہ کر کے ایسے اقدامات کروائے گئے جو عام حالات میں صرف انسانی تصدیق کے بعد ممکن ہوتے ہیں۔
میٹا نے تصدیق کی کہ مسئلہ حل کر لیا گیا ہے اور متاثرہ اکاؤنٹس کو محفوظ بنایا جا رہا ہے، تاہم اس واقعے نے کمپنی کی اے آئی حکمت عملی پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ واقعے کے بعد سرمایہ کاروں کی تشویش میں اضافہ ہوا اور کمپنی کے حصص کی قیمت میں 5 فیصد سے زیادہ کمی دیکھی گئی۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ خود مصنوعی ذہانت نہیں بلکہ اسے حساس اختیارات دینا ہے۔ ان کے مطابق جب اے آئی کو اکاؤنٹ ریکوری، پاس ورڈ ری سیٹ اور دیگر اہم فیصلوں کا اختیار دیا جاتا ہے تو اس کے گرد انتہائی مضبوط حفاظتی نظام ہونا ضروری ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب میٹا انسانی سپورٹ عملے میں بڑی کٹوتیوں کے بعد مصنوعی ذہانت پر انحصار بڑھا رہی ہے اور اے آئی انفراسٹرکچر پر اربوں ڈالر خرچ کر رہی ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ مسئلہ صرف میٹا تک محدود نہیں۔ دنیا بھر میں کمپنیاں تیزی سے اے آئی ایجنٹس اور خودکار ڈیجیٹل معاونین کو اہم ذمہ داریاں سونپ رہی ہیں، جس سے مستقبل میں اس نوعیت کے مزید حملوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق سائبر جرائم پیشہ افراد پہلے انسانوں کو دھوکا دیتے تھے، لیکن اب وہ مصنوعی ذہانت کے نظاموں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اے آئی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ سیکیورٹی اور نگرانی کے نئے معیارات متعارف کرانے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔


