آئی فون 18 پرو کی بیٹری سے متعلق نئی معلومات لیک، ایپل صارفین کو بڑا جھٹکا

ایپل کے متوقع آئی فون 18 پرو کے حوالے سے سامنے آنے والی ایک نئی لیک نے صارفین اور ٹیکنالوجی شائقین کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ لیک کے مطابق کمپنی اس بار بیٹری کی گنجائش میں کوئی بڑی پیش رفت کرنے کے بجائے توانائی کی بچت اور کارکردگی بہتر بنانے پر توجہ دے رہی ہے، جس پر بعض صارفین مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں۔

چینی ٹپسٹر “ڈیجیٹل چیٹ اسٹیشن” کے مطابق ایپل آئی فون 18 پرو کے لیے دو مختلف بیٹری پیک آزما رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکی مارکیٹ میں فروخت ہونے والے ماڈل کے لیے 4,288ایم اے ایچ بیٹری کی جانچ جاری ہے، جبکہ چین اور دیگر عالمی منڈیوں کے لیے 4,056ایم اے ایچ بیٹری پیک کا تجربہ کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی ماڈل میں بڑی بیٹری کی وجہ ای سمٹیکنالوجی ہے، کیونکہ اس میں فزیکل سم سلاٹ موجود نہیں ہوتا، جس سے اضافی جگہ بیٹری کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔

اگر یہ معلومات درست ثابت ہوتی ہیں تو آئی فون 18 پرو کی بیٹری اپنے پیشرو آئی فون 17 پرو کے مقابلے میں صرف معمولی اپ گریڈ کے ساتھ آئے گی۔

آئی فون 17 پرو کے امریکی ورژن میں 4252 ایم اے ایچ جبکہ فزیکل سم سلاٹ والے ماڈل میں 4056 ایم اے ایچ بیٹری موجود ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں نسلوں کے درمیان بیٹری کی گنجائش میں فرق بہت کم ہوگا۔

تاہم ایپل بیٹری کی محدود اپ گریڈ کو جدید ہارڈویئر کے ذریعے پورا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق کمپنی آئی فون 18 پرو میں نئے اے 20 پرو چِپ سیٹ کا استعمال کرے گی جو 2 نینو میٹر پراسیس پر تیار کیا جائے گا۔ یہ چِپ کم توانائی استعمال کرتے ہوئے بہتر کارکردگی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جس سے بیٹری ٹائمنگ میں نمایاں بہتری متوقع ہے۔

اس کے علاوہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایپل نئے اور زیادہ پاور ایفیشنٹ ڈسپلے پینلز بھی متعارف کرائے گی۔ ماہرین کے مطابق کمپنی کا ہدف صرف بڑی بیٹری فراہم کرنا نہیں بلکہ ہارڈویئر اور سافٹ ویئر کی مدد سے توانائی کے استعمال کو زیادہ مؤثر بنانا ہے تاکہ صارفین کو بہتر بیٹری بیک اپ حاصل ہو سکے۔

آئی فون 18 پرو کی باضابطہ رونمائی رواں سال ستمبر میں متوقع ہے، جبکہ موجودہ معلومات غیر مصدقہ لیکس پر مبنی ہیں اور حتمی تفصیلات لانچ کے وقت ہی سامنے آئیں گی۔۔