ہانگ کانگ نے پہلی بار سوئٹزرلینڈ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کے سب سے بڑے کراس بارڈر ویلتھ مینجمنٹ مرکز کا اعزاز حاصل کر لیا ہے، تاہم سوئس بینک اس پیش رفت سے پریشان دکھائی نہیں دیتے بلکہ اسے مجوزہ سخت بینکاری قوانین کے خلاف اپنے مؤقف کو مضبوط بنانے کا موقع قرار دے رہے ہیں۔
بین الاقوامی مشاورتی ادارے بوسٹن کنسلٹنگ گروپ (بی سی جی ) کی تازہ رپورٹ کے مطابق 2025 کے دوران ہانگ کانگ میں سرحد پار زیرِ انتظام اثاثوں کا حجم 2.95 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گیا، جبکہ سوئٹزرلینڈ کے پاس یہ حجم 2.946 ٹریلین ڈالر رہا۔
رپورٹ کے مطابق ہانگ کانگ کو یہ برتری بنیادی طور پر چین سے آنے والی سرمایہ کاری، ابتدائی عوامی حصص (IPO) کی سرگرمیوں اور ایکویٹی مارکیٹ میں نمایاں اضافے کے باعث حاصل ہوئی۔ ہانگ کانگ کے فنانشل سیکریٹری پال چن کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں تیز رفتار ترقی مستقبل میں ویلتھ مینجمنٹ انڈسٹری کے لیے مزید مواقع پیدا کرے گی۔
بی سی جی کے مطابق ہانگ کانگ آنے والے بیرونی سرمائے کا 60 فیصد سے زیادہ حصہ چین سے آتا ہے، جس کے باعث یہ شہر عالمی مالیاتی منڈیوں تک چین کے اہم دروازے کے طور پر اپنی حیثیت مزید مستحکم کر رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا اور چین کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث بھی چینی سرمایہ کار اپنی دولت ہانگ کانگ منتقل کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
دوسری جانب چین نے حالیہ مہینوں میں بیرونِ ملک سرمایہ کاری اور سرحد پار تجارتی سرگرمیوں پر نگرانی سخت کر دی ہے۔ چینی حکومت نے ایسے اقدامات کا اعلان کیا ہے جن کا مقصد حساس ٹیکنالوجی، خدمات اور ڈیٹا کی غیر مجاز منتقلی کو روکنا ہے۔
سوئس بینکنگ ایسوسی ایشن نے تسلیم کیا ہے کہ ہانگ کانگ نے چین کی غیر معمولی معاشی ترقی سے براہِ راست فائدہ اٹھایا ہے، تاہم اس کا کہنا ہے کہ سوئس بینک بھی ایشیائی منڈیوں میں مضبوط موجودگی رکھتے ہیں اور مستقبل میں عالمی مسابقت برقرار رکھنے کے لیے متوازن اور بین الاقوامی سطح پر ہم آہنگ ضوابط ناگزیر ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سوئٹزرلینڈ کا سب سے بڑا بینک یوبی ایس حکومت کے ساتھ نئے بینکاری قوانین پر اختلافات کا شکار ہے۔ 2023 میں کریڈٹ سوئس کے انہدام کے بعد حکومت مالیاتی نظام کو مزید محفوظ بنانے کے لیے سخت ضوابط متعارف کرانے کی تیاری کر رہی ہے، جبکہ بینکاری شعبہ ان قوانین کو عالمی مسابقت کے لیے نقصان دہ قرار دے رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہانگ کانگ کا دنیا کا سب سے بڑا ویلتھ مینجمنٹ مرکز بننا دراصل ایشیا کی بڑھتی ہوئی معاشی طاقت کا مظہر ہے۔ ان کے مطابق ایشیائی دولت مند افراد کے لیے ہانگ کانگ جغرافیائی طور پر زیادہ قریب اور سہل مالیاتی مرکز ہے، جس کے باعث خطے میں دولت کا ارتکاز تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مستقبل میں عالمی ویلتھ مینجمنٹ کی دوڑ کا مرکز ایشیا ہی رہے گا، اور جو مالیاتی ادارے بیک وقت ایشیائی اور یورپی منڈیوں میں مؤثر موجودگی نہیں رکھتے، وہ عالمی مسابقت میں پیچھے رہ سکتے ہیں۔


