دنیا کی ڈیجیٹل تاریخ میں پہلی بار ایسا موقع آیا ہے جب انٹرنیٹ پر انسانوں کے مقابلے میں مصنوعی ذہانت (اےآئی) سے چلنے والے بوٹس کی سرگرمیاں زیادہ ریکارڈ کی گئی ہیں۔
معروف انٹرنیٹ سروس کمپنی کلاؤڈ فلیئر کی تازہ رپورٹ کے مطابق 27 اپریل کو ویب سائٹس پر آنے والے ایچ ٹی ایم ایل ٹریفک کا 57 فیصد حصہ اے آئی بوٹس پر مشتمل تھا، جبکہ انسانی صارفین کا حصہ 43 فیصد رہا۔
کلاؤڈ فلیئر کے چیف ایگزیکٹو آفیسر میتھیو پرنس کے مطابق انہوں نے توقع کی تھی کہ یہ سنگ میل 2027 کے دوران عبور ہوگا، تاہم اے آئی کی تیز رفتار ترقی نے تمام اندازے غلط ثابت کر دیے۔ ان کے مطابق 27 اپریل کے بعد بھی بوٹس کا ٹریفک 53 سے 60 فیصد کے درمیان برقرار ہے۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ انٹرنیٹ پر انسانوں سے زیادہ اے آئی بوٹس موجود ہیں، بلکہ بوٹس کی آن لائن سرگرمیاں انسانی صارفین کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں۔
مثال کے طور پر اگر کوئی شخص کیمرہ خریدنے کے لیے چند ویب سائٹس دیکھتا ہے تو ایک اے آئی ایجنٹ اسی مقصد کے لیے ہزاروں ویب سائٹس کا جائزہ لے سکتا ہے، جس سے مجموعی ٹریفک میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق جنریٹو اے آئی کے عام ہونے سے پہلے انٹرنیٹ پر بوٹس کا حصہ تقریباً 20 فیصد تھا، جس میں زیادہ تر سرچ انجنز کے کرالرز شامل ہوتے تھے۔ تاہم اب مختلف اے آئی ماڈلز اور خودکار ایجنٹس کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں نے انٹرنیٹ کے استعمال کا نقشہ بدل کر رکھ دیا ہے۔
ٹیکنالوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی بوٹس کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث مستقبل میں مزید طاقتور سرورز، بڑے ڈیٹا سینٹرز اور وسیع انفراسٹرکچر کی ضرورت پڑے گی۔ اس رجحان سے نہ صرف ٹیکنالوجی انڈسٹری بلکہ عالمی ڈیجیٹل معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔
کلاؤڈ فلیئر کے اعداد و شمار نے یہ واضح کر دیا ہے کہ مصنوعی ذہانت اب صرف ایک ٹیکنالوجی نہیں بلکہ انٹرنیٹ کی بنیادی سرگرمیوں کا اہم حصہ بنتی جا رہی ہے، اور آنے والے برسوں میں اس کا کردار مزید بڑھنے کی توقع ہے۔


