پاکستانی خون اور عراقی جرسی: فیفا ورلڈ کپ میں حصہ لینے والے زیدان اقبال کی کہانی

فٹبال کے میدان میں پاکستان کا نام شاذ و نادر ہی عالمی سطح پر نمایاں ہوتا ہے، لیکن فیفا ورلڈ کپ 2026 میں ایک ایسا کھلاڑی ایکشن میں نظر آئے گا جس کا تعلق پاکستانی خاندان سے ہے۔ نوجوان مڈفیلڈر زیدان اقبال عراق کی قومی ٹیم کے ساتھ دنیا کے سب سے بڑے فٹبال مقابلے میں شرکت کرنے جا رہے ہیں، جس پر پاکستانی شائقین بھی خاصی دلچسپی لے رہے ہیں۔

انگلینڈ میں پیدا ہونے والے زیدان اقبال کے والد پاکستانی جبکہ والدہ عراقی ہیں۔ اسی وجہ سے ان کے پاس تین ممالک کی نمائندگی کا موقع موجود تھا، تاہم انہوں نے عراق کے لیے کھیلنے کا فیصلہ کیا اور آج وہ عراقی قومی ٹیم کے اہم کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں۔

زیدان کی فٹبال صلاحیتوں کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ کم عمری میں ہی مشہور انگلش کلب مانچسٹر یونائیٹڈ کی اکیڈمی کا حصہ بن گئے تھے۔ بعد ازاں انہوں نے کلب کی سینئر ٹیم کے لیے بھی میدان میں قدم رکھا اور یورپ کے سب سے بڑے کلب ٹورنامنٹ یوئیفا چیمپئنز لیگ میں شرکت کرکے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔

عراق کے لیے کھیلنے کا فیصلہ زیدان کے کیریئر کا اہم موڑ ثابت ہوا۔ گزشتہ چند برسوں میں وہ قومی ٹیم کا مستقل حصہ رہے اور ورلڈ کپ کوالیفائنگ مرحلے میں بھی ٹیم کے ساتھ رہے۔ اب عراق تقریباً چالیس سال بعد عالمی کپ کے اسٹیج پر واپسی کر رہا ہے اور زیدان اقبال اس تاریخی سفر کے اہم کرداروں میں شامل ہیں۔

اگرچہ زیدان نے کبھی پاکستان کی نمائندگی نہیں کی، لیکن ان کی پاکستانی جڑیں انہیں یہاں کے فٹبال شائقین کے لیے خاص بنا دیتی ہیں۔ ورلڈ کپ 2026 میں جب وہ میدان میں اتریں گے تو لاکھوں پاکستانی بھی ان کی کارکردگی پر نظریں جمائے ہوں گے، کیونکہ عالمی فٹبال کے سب سے بڑے اسٹیج پر پاکستان سے جڑا یہ نام ایک منفرد شناخت کے ساتھ چمکنے جا رہا ہے۔