بین الاقوامی فلاحی تنظیم آکسفیم نے اپنی تازہ رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ یورپ کی 100 بڑی کمپنیاں اپنے منافع کا دو تہائی سے زیادہ حصہ شیئر ہولڈرز میں تقسیم کر کے معاشی عدم مساوات کو بڑھا رہی ہیں، جبکہ یہی رقم سرمایہ کاری، روزگار کے مواقع اور ماحولیاتی منصوبوں پر خرچ کی جا سکتی ہے۔
آکسفیم کی جانب سے جاری کردہ یورپی رپورٹ کے مطابق 2022 سے 2024 کے دوران یورپ کی 100 بڑی کمپنیوں نے اوسطاً اپنے 70 فیصد منافع کو حصص یافتگان میں تقسیم کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بعض کمپنیوں نے تو اپنے منافع سے بھی زیادہ رقم شیئر ہولڈرز کو ادا کی۔
تنظیم کے مطابق ٹیلی فونیکا ، بی پی اور زیورخ انشورنس گروپ ان کمپنیوں میں شامل ہیں جنہوں نے اپنے حاصل کردہ منافع سے زیادہ رقم شیئر ہولڈرز کو دی۔
آکسفیم کے ترجمان الیگزینڈرے پوئیٹز کا کہنا ہے کہ جب حکومتی مالی وسائل دباؤ کا شکار ہیں تو بڑی کمپنیوں کے پاس اتنے وسائل موجود ہیں کہ وہ مستقبل، روزگار اور یورپ کی معاشی مسابقت میں سرمایہ کاری کر سکیں، لیکن اس کے بجائے وہ شیئر ہولڈرز کو نوازنے کو ترجیح دے رہی ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ تقریباً نصف کمپنیوں نے گرین ٹرانزیشن اور ماحولیاتی منصوبوں پر ہونے والی سرمایہ کاری کے مقابلے میں 32 گنا زیادہ رقم اپنے حصص یافتگان کو ادا کی۔
آکسفیم فرانس کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سیسیل ڈفلوٹ نے کہا کہ جہاں مؤثر ضابطے موجود ہوتے ہیں وہاں نظام بہتر انداز میں کام کرتا ہے، لیکن قواعد و ضوابط نہ ہونے کی صورت میں عدم توازن پیدا ہو جاتا ہے۔
تنظیم نے یورپی قانون سازوں اور کاروباری رہنماؤں سے مطالبہ کیا ہے کہ چیف ایگزیکٹو افسران (سی ای اوز) کی تنخواہوں کو عام ملازمین کی اوسط آمدنی کے زیادہ سے زیادہ 20 گنا تک محدود کیا جائے۔ ساتھ ہی یہ سفارش بھی کی گئی ہے کہ جب تک کارکنوں کو مناسب اجرت اور مؤثر ماحولیاتی حکمت عملی کی ضمانت نہ ملے، اس وقت تک شیئر ہولڈرز کو دی جانے والی رقوم پر بھی حد مقرر کی جائے۔
آکسفیم نے اعلیٰ انتظامی عہدوں پر خواتین کی نمائندگی بڑھانے کے لیے کوٹہ سسٹم متعارف کرانے کی سفارش بھی کی ہے۔ تنظیم کے مطابق معاشی عدم مساوات ناگزیر نہیں بلکہ ایک پالیسی انتخاب ہے، اور یورپ کی بڑی کمپنیوں کو ایسا کاروباری ماڈل اپنانا چاہیے جو صرف چند افراد کے بجائے وسیع تر معاشرے کے مفاد میں ہو۔


