اہم ترین

برطانیہ میں بھی 16 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا پابندی کا اعلان

برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے اعلان کیا ہے کہ حکومت 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کرنے جا رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے قانون سازی کا عمل رواں سال دسمبر تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

کیئر اسٹارمر کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بچوں کو نقصان دہ مواد تک رسائی دیتے ہیں اور انہیں اس طرح ڈیزائن کیا جاتا ہے کہ صارفین ان کے عادی بن جائیں، جس کے منفی اثرات بچوں کی ذہنی اور نفسیاتی صحت پر پڑتے ہیں۔

مجوزہ پابندی کے تحت ٹک ٹاک، انسٹاگرام، فیس بک، ایکس، یوٹیوب اور اسنیپ چیٹ جیسے پلیٹ فارمز شامل ہوں گے، تاہم واٹس ایپ اور دیگر میسیجنگ سروسز اس پابندی سے مستثنیٰ رہیں گی۔

برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ قانون سازی مکمل ہونے کے بعد پابندی کو اگلے سال موسم بہار سے نافذ کیا جا سکتا ہے۔ مزید تفصیلات جولائی میں جاری کی جائیں گی۔

حکومت مستقبل میں کم عمر بچوں کے لیے بعض گیمنگ سروسز اور لائیو اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پر بھی پابندیاں متعارف کرانے پر غور کر رہی ہے۔ یہ اقدام بچوں کی آن لائن حفاظت اور ذہنی صحت کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے اقدامات کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

پاکستان