قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی نے خلجی ملک عمان کے دورے کے دوران آبنائے ہرمز کے انتظام اور بحری آمد و رفت سے متعلق مجوزہ علاقائی مذاکرات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
جرمن ویب سائیٹ ڈی ڈبلیو کے مطابق عمان میں ہونے والی ملاقاتوں کا بنیادی مقصد ایران، عراق اور خلیجی عرب ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز کے حوالے سے باضابطہ مذاکرات کے آغاز کے لیے ماحول سازگار بنانا ہے۔ یہ مجوزہ مذاکرات امریکا اور ایران کے درمیان جاری امن عمل اور سمندری بارودی سرنگوں کی صفائی سے متعلق انتظامات سے الگ نوعیت کے ہوں گے۔
خلیجی عرب ممالک آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بین الاقوامی تجارتی جہازوں پر کسی بھی قسم کی ٹرانزٹ فیس عائد نہ کرنے کے حامی ہیں، جبکہ ایران ماحولیاتی تحفظ، بحری رہنمائی اور سکیورٹی خدمات کی فراہمی کے عوض فیس لینے کی تجویز پیش کر سکتا ہے۔ اس معاملے کو آئندہ مذاکرات میں اہم موضوع سمجھا جا رہا ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ دنیا کے تیل اور مائع قدرتی گیس کی بڑی مقدار اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔ حالیہ مہینوں میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے بعد اس بحری گزرگاہ پر تجارتی سرگرمیوں اور جہاز رانی کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔
عمان میں ہونے والی یہ سفارتی سرگرمیاں ایران اور امریکا کے درمیان حال ہی میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی ایک اہم شق کو عملی شکل دینے کی کوشش ہیں، جس میں آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حمل اور سمندری خدمات کے مستقبل کے انتظام پر علاقائی سطح پر مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا۔
سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ مجوزہ مذاکراتی عمل میں پاکستان کو ثالث یا سہولت کار کا کردار سونپنے کی تجویز بھی زیر غور ہے، جو خطے میں متوازن سفارتی تعلقات کی وجہ سے تمام فریقوں کے لیے قابل قبول کردار ادا کر سکتا ہے۔
دوسری جانب خطے میں اعتماد سازی اور سیاسی مفاہمت کے فروغ کے لیے سعودی دارالحکومت ریاض میں ایران، خلیجی عرب ممالک اور دیگر علاقائی شراکت داروں کے درمیان وسیع تر مذاکرات کے انعقاد کی منصوبہ بندی بھی کی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ سفارتی کوششیں کامیاب ہوئیں تو نہ صرف آبنائے ہرمز میں استحکام کو فروغ ملے گا بلکہ پورے خطے میں سیاسی اور معاشی تعاون کے نئے امکانات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔











