اہم ترین

یورپ میں شدید گرمی : عالمی ادارہ صحت صحت کا خطرات سے متعلق الرٹ

یورپ اس وقت ایک غیر معمولی اور ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر کی زد میں ہے، جس کے باعث عوامی صحت، بجلی کی فراہمی اور روزمرہ زندگی کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ ہیٹ ویو نہ صرف لوگوں کی صحت کے لیے خطرہ بن چکی ہے بلکہ مستقبل میں ایسے واقعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادھانوم گیبریئسس نے کہا ہے کہ یورپ میں بڑھتی ہوئی گرمی اسکولوں کی بندش اور صحت عامہ کے مسائل کا سبب بن رہی ہے۔ ان کے مطابق دستیاب اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ یورپ کا درجہ حرارت عالمی اوسط کے مقابلے میں تقریباً دوگنی رفتار سے بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں شدید گرمی کی لہروں کے امکانات اور شدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

حالیہ دنوں میں یورپ کے مختلف ممالک میں درجہ حرارت خطرناک حد تک بلند ہو گیا ہے، جبکہ بعض علاقوں میں ہزاروں افراد بجلی کی فراہمی سے بھی محروم ہو گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلی اس صورتحال کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔

اس ہفتے جاری ہونے والی ایک سائنسی تحقیق کے مطابق موجودہ ہیٹ ویو موسمیاتی تبدیلی کے باعث نمایاں طور پر زیادہ شدید ہوئی ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ اگر انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی ماحولیاتی تبدیلی نہ ہوتی تو موجودہ درجہ حرارت 2 سے 4 ڈگری سینٹی گریڈ تک کم ہو سکتا تھا۔

عالمی ادارۂ صحت نے عوام کو ہیٹ ایکزاسشن (شدید گرمی سے تھکن) اور ہیٹ اسٹروک (جان لیوا گرمی) کے درمیان فرق سمجھنے کی بھی ہدایت کی ہے۔ ماہرین کے مطابق سر درد، چکر آنا، متلی اور پٹھوں میں کھنچاؤ ہیٹ ایکزاسشن کی علامات ہیں، جبکہ ذہنی الجھن، بے ہوشی اور دورے پڑنا ہیٹ اسٹروک کی نشاندہی کرتے ہیں، جو فوری طبی امداد کا متقاضی ہوتا ہے۔

ڈبلیو ایچ او نے یاد دلایا کہ 2003 میں یورپ میں آنے والی شدید گرمی کی لہر کے نتیجے میں تقریباً 70 ہزار افراد جان کی بازی ہار گئے تھے، جس سے ایسے موسمی واقعات کے ممکنہ خطرات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

ادارے نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ شدید گرمی کے دوران باقاعدگی سے پانی پیا جائے اور روزانہ کم از کم دو سے تین لیٹر پانی استعمال کیا جائے۔ ماہرین کے مطابق 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ درجہ حرارت میں برقی پنکھوں کا استعمال جسم کو مزید گرم کر سکتا ہے، جبکہ ائیرکنڈیشنر کو 27 ڈگری پر سیٹ کر کے پنکھے کے ساتھ استعمال کرنے سے بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او نے یورپی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ صحت کے شعبے کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے قابل بنانے کے لیے فوری سرمایہ کاری کریں، کیونکہ مستقبل میں شدید گرمی، سیلاب اور خشک سالی جیسے موسمی واقعات مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

پاکستان