اہم ترین

اے آئی ٹیکنالوجی کی دوڑ: میٹا سستے اسمارٹ چشمے مارکیٹ میں لے آیا

مصنوعی ذہانت پر مبنی ویئرایبل ٹیکنالوجی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مارکیٹ میں میٹا نے ایک اور اہم قدم اٹھاتے ہوئے نسبتاً کم قیمت والے نئے اسمارٹ چشمے متعارف کرا دیے ہیں۔ کمپنی کا مقصد ایسے صارفین کو اپنی جانب متوجہ کرنا ہے جو جدید اے آئی فیچرز تو چاہتے ہیں لیکن مہنگی ڈیوائسز خریدنے سے گریز کرتے ہیں۔

میٹا نے اعلان کیا ہے کہ نئے اسمارٹ گلاسز کی ابتدائی قیمت 299 ڈالر رکھی گئی ہے، جو کمپنی کے رے بین برانڈڈ اسمارٹ چشموں کے مقابلے میں کم ہے۔ اس سے قبل دستیاب رے بین اسمارٹ گلاسز کی قیمت 379 ڈالر سے شروع ہوتی تھی۔

نئے چشمے معروف آئی ویئر کمپنی ایزیلر لکزوٹیکا کے اشتراک سے تیار کیے گئے ہیں، تاہم اس مرتبہ ان پر نہ تو رے بین اور نہ ہی اوآکلے کی برانڈنگ موجود ہوگی، جو میٹا کی سابقہ مصنوعات کا نمایاں حصہ رہی ہے۔

یہ اسمارٹ گلاسز تصاویر اور ویڈیوز ریکارڈ کرنے، موسیقی سننے، فون کالز کرنے اور مصنوعی ذہانت پر مبنی معاون کے ساتھ گفتگو جیسی سہولیات فراہم کرتے ہیں۔ کمپنی کے مطابق نئی ڈیوائس میں لائیو ٹرانسلیشن کی صلاحیت بھی شامل کی گئی ہے، جو 14 نئی زبانوں کی سپورٹ کے ساتھ دستیاب ہوگی۔

میٹا کے ویئرایبل ڈویژن کے نائب صدر الیکس ہیمل کے مطابق کمپنی ایک ایسی پروڈکٹ متعارف کرانا چاہتی تھی جو کم قیمت کے باوجود صارفین کو جدید اے آئی تجربہ فراہم کر سکے۔ اسی حکمت عملی کے تحت نئے ماڈل کی قیمت نسبتاً کم رکھی گئی ہے۔

اس وقت اسمارٹ گلاسز کی عالمی مارکیٹ میں میٹا نمایاں مقام رکھتا ہے، تاہم مقابلہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ حال ہی میں اسپین انکارپوریٹڈ نے بھی اپنے نئے اسپیکس اسمارٹ گلاسز کا اعلان کیا ہے، جو آگمینٹڈ ریئلٹی ٹیکنالوجی سے لیس ہوں گے اور اسمارٹ فون سے منسلک ہوئے بغیر کام کر سکیں گے۔ ان چشموں کی قیمت 2195 ڈالر مقرر کی گئی ہے، جو میٹا کی مصنوعات کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے۔

دوسری جانب ایپل کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ وہ 2027 میں اپنی اسمارٹ عینک متعارف کرا سکتا ہے۔ کمپنی اس سے قبل مکسڈ ریئلٹی ہیڈسیٹ ایپل پرو ویژن بھی لانچ کر چکی ہے، تاہم اس کی فروخت توقعات کے مطابق نہیں رہی۔

ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت، آگمینٹڈ ریئلٹی اور ویئرایبل ڈیوائسز کا امتزاج آنے والے برسوں میں اسمارٹ فونز کے بعد سب سے بڑی ٹیکنالوجیکل تبدیلی ثابت ہو سکتا ہے، اور میٹا کی نئی لانچ اسی مسابقتی دوڑ کا اہم حصہ سمجھی جا رہی ہے۔

پاکستان