فالج (اسٹروک) دنیا بھر میں اموات اور معذوری کی بڑی وجوہات میں شامل ہے، لیکن اس سے متعلق کئی غلط فہمیاں آج بھی عام ہیں۔ ماہرین کے مطابق فالج دراصل دماغ کی بیماری ہے، دل کی نہیں، اور بروقت علاج سے اس کے اثرات کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
نیورو اینڈوواسکولر سرجری کے ماہر امریکی ڈاکٹر رافیل الیگزینڈر اورٹیز کے مطابق فالج کی تین بنیادی اقسام ہیں: اسکیمک اسٹروک (خون کی نالی بند ہونا)، ہیموریجک اسٹروک (دماغ میں خون کی شریان پھٹ جانا) اور عارضی اسکیمک اٹیک ( ٹی آئی اے یا منی اسٹروک)، جو مستقبل میں بڑے فالج کا انتباہ ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بلند فشارِ خون، تمباکو نوشی، ذیابیطس، موٹاپا، کولیسٹرول کی زیادتی، دل کی بے ترتیب دھڑکن، ذہنی دباؤ اور غیر صحت بخش طرزِ زندگی فالج کے اہم خطرات میں شامل ہیں، جنہیں مناسب غذا، باقاعدہ ورزش اور صحت مند عادات کے ذریعے کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
فالج کی فوری علامات کو یاد رکھنے کے لیے فاسٹ (ایف اے ایس ٹی) فارمولا اپنانے کی ہدایت دی جاتی ہے۔
ایف : چہرے کا ایک حصہ ٹیڑھا یا سُن ہونا
اے : ایک بازو میں کمزوری یا سن ہونا
ایس: بولنے میں دشواری یا الفاظ واضح نہ ہونا۔
ٹی : فوراً ایمبولینس یا ہنگامی طبی امداد حاصل کرنا
اس کے علاوہ اچانک نظر دھندلا جانا، شدید سر درد، چلنے میں دشواری، چکر آنا، جسم کے ایک حصے میں کمزوری یا سن ہونا بھی فالج کی علامات ہو سکتی ہیں۔
ڈاکٹرز کے مطابق ایک عام غلط فہمی یہ بھی ہے کہ فالج صرف بزرگوں کو ہوتا ہے، حالانکہ نوجوان بھی اس کا شکار ہو سکتے ہیں۔
اسی طرح ہر فالج میں معذوری ضروری نہیں ہوتی، اور بعض اوقات خاموش فالج بغیر واضح علامات کے بھی ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ فالج کا علاج 100 فیصد ممکن ہے، لیکن اس کے لیے مریض کو علامات ظاہر ہونے کے فوراً بعد اسپتال پہنچانا انتہائی ضروری ہے۔ جتنی جلد علاج شروع ہوگا، مکمل یا بہتر صحت یابی کے امکانات اتنے ہی زیادہ ہوں گے، جبکہ بحالی کا عمل کئی ماہ یا بعض اوقات برسوں تک جاری رہ سکتا ہے۔











