اہم ترین

بڑھاپے میں کیلشیم اور وٹامن ڈی کی دواؤں سے ہڈیاں ٹوٹنے کا خطرہ کم نہیں ہوتا: جدید تحقیق

ایک نئی طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ بڑھتی عمر میں صرف کیلشیم اور وٹامن ڈی کے سپلیمنٹس ہڈیوں کے ٹوٹنے یا گرنے کے خطرے کو نمایاں طور پر کم نہیں کرتے۔ ماہرین کے مطابق مضبوط ہڈیوں کے لیے متوازن غذا، باقاعدہ ورزش اور مجموعی صحت پر توجہ زیادہ مؤثر حکمتِ عملی ہے۔

بین الاقوامی طبی جریدے بی ایم جے میں تحقیق اور اس کے نتائج شائع ہوئے ہیں۔ جس میں ہڈیوں کی مضبوطی کے لئے کیلشئیم اور دیگر قوت بخش اجزا کی اہمیت پر جائزہ لیا گیا ہے۔

تحقیق میں تقریباً 1 لاکھ 54 ہزار افراد پر کی گئی 69 کلینیکل مطالعات کا تجزیہ کیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ کیلشیم، وٹامن ڈی یا دونوں کا مشترکہ استعمال عام طور پر ہڈیوں کے فریکچر، کولہے کی ہڈی ٹوٹنے یا گرنے کے خطرے میں خاطر خواہ کمی نہیں لاتا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کا مطلب یہ نہیں کہ کیلشیم اور وٹامن ڈی غیر ضروری ہیں، بلکہ یہ غذائی اجزا جسم کے لیے اہم ہیں، خاص طور پر ان افراد کے لیے جن میں ان کی کمی پائی جاتی ہے۔ تاہم صرف سپلیمنٹس پر انحصار ہڈیوں کی حفاظت کے لیے کافی نہیں۔

ڈاکٹروں کے مطابق ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے پروٹین، میگنیشیم، وٹامن کے2، وٹامن سی اور فائبر سے بھرپور غذا بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہفتے میں دو سے تین دن ورزش ، وزن برداشت کرنے والی ورزشیں، توازن بہتر بنانے کی مشقیں اور باقاعدہ چہل قدمی ہڈیوں کی کثافت برقرار رکھنے اور گرنے کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

ماہرین نے یہ بھی مشورہ دیا کہ عمر رسیدہ افراد اپنی بینائی کا باقاعدگی سے معائنہ کروائیں، گھر میں پھسلنے کے خطرات کم کریں، مناسب روشنی کا انتظام رکھیں اور ضرورت پڑنے پر معاون آلات استعمال کرنے سے گریز نہ کریں، کیونکہ ہڈیوں کو محفوظ رکھنے کے لیے صرف دوا نہیں بلکہ ایک جامع طرزِ زندگی اختیار کرنا ضروری ہے۔

پاکستان