مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے ذریعے دبئی کے ولی عہد کا روپ دھار کر خواتین کو محبت کے جال میں پھانسنے اور پھر ان سے رقم بٹورنے کے انکشافات سامنے آئے ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق فراڈیے دبئی کے ولی عہد شیخ حمدان بن محمد، المعروف فزّا، کی شناخت استعمال کرتے ہوئے سوشل میڈیا اور میسجنگ ایپس پر خواتین کو جعلی رومانوی تعلقات میں الجھا کر مالی طور پر نقصان پہنچا رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق فلپائنی گھریلو ملازمہ ماریا، جس کا اصل نام اور عمر ظاہر نہیں کی گئی، ان متاثرین میں شامل ہے جو اس جعلسازی کا شکار ہوئیں۔ ماریا کا کہنا تھا کہ اس کی ملاقات ایک ڈیٹنگ سائٹ پر ایسے شخص سے ہوئی جس نے خود کو دبئی کا شہزادہ ظاہر کیا۔ بعد ازاں گفتگو ایک میسجنگ ایپ پر منتقل ہوئی جہاں وہ شخص مسلسل محبت بھرے پیغامات بھیجتا رہا اور لائیو ویڈیو کالز کے ذریعے خود کو اصلی شہزادہ ظاہر کرتا رہا۔
ماریا کے مطابق ویڈیو کالز میں نظر آنے والا شخص دبئی کے شہزادے جیسا دکھائی دیتا تھا، اس کے ہونٹوں کی حرکت اور چہرے کے تاثرات بھی حقیقت سے قریب محسوس ہوتے تھے، تاہم آواز اصل شہزادے سے مختلف تھی۔ اس کے باوجود ماریا ابتدا میں دھوکا نہ بھانپ سکی اور اس جعلی تعلق پر یقین کرتی رہی۔
خاتون کے مطابق جعلساز نے پہلے اس سے محبت اور شادی کے دعوے کیے، پھر اسے یقین دلایا کہ شادی کے کاغذات اور ایک نام نہاد رائل ممبرشپ کارڈ کے ذریعے اسے دبئی میں ملازمت دلائی جا سکتی ہے۔ اس مقصد کے لیے اس سے ایک لاکھ فلپائنی پیسو، یعنی تقریباً 1625 امریکی ڈالر، وصول کیے گئے۔ بعد ازاں جب جعلساز نے ہوٹل میں ملاقات کے نام پر مزید 60 ہزار پیسو طلب کیے تو ماریا کو شک ہوا۔
تحقیق کرنے پر ماریا کو معلوم ہوا کہ جس فیس بک اکاؤنٹ کے ذریعے اس سے رابطہ کیا جا رہا تھا، وہ دراصل نائجیریا سے چلایا جا رہا تھا۔ اس انکشاف کے بعد اس نے فوری طور پر رابطہ ختم کر دیا اور آخری پیغام میں جعلساز کو سخت الفاظ میں جواب دیا۔
اے ایف پی کے مطابق یہ ایک الگ واقعہ نہیں بلکہ ’’جعلی دبئی شہزادہ اسکیم‘‘ ایک وسیع آن لائن فراڈ نیٹ ورک کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ فراڈیے دبئی کے ولی عہد کی مقبولیت، سوشل میڈیا پر ان کی بڑی موجودگی، اور ان کے لاکھوں مداحوں کو استعمال کرتے ہوئے جعلی پروفائلز بناتے ہیں۔ بعض اوقات وہ شہزادے کی اصل شاعری، تصاویر اور سوشل میڈیا انداز تک نقل کرتے ہیں تاکہ دھوکا زیادہ حقیقی لگے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ فیس بک پر ایسے کئی گروپس سامنے آئے ہیں جو خود کو دبئی کے شہزادے سے منسوب کرتے ہیں۔ ان گروپس میں بعض کے ہزاروں فالوورز موجود ہیں اور صارفین کو واٹس ایپ یا ٹیلیگرام پر ’’شہزادے‘‘ سے براہِ راست رابطے کی دعوت دی جاتی ہے۔ ان صفحات پر ایسی تصاویر اور پوسٹس شیئر کی جاتی ہیں جن میں شہزادہ گھٹنے کے بل بیٹھا انگوٹھی پیش کرتا دکھائی دیتا ہے یا سرخ گلاب کے ساتھ محبت بھرے جملے لکھے ہوتے ہیں۔
اگرچہ کچھ صارفین تبصروں میں خبردار کرتے ہیں کہ یہ فراڈ ہے، لیکن بہت سے لوگ ان پوسٹس پر دل والے ایموجیز اور محبت بھرے پیغامات بھیجتے نظر آتے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس قسم کی جعلسازی اب بھی متعدد افراد کو دھوکا دینے میں کامیاب ہو رہی ہے۔
اس بڑھتے ہوئے فراڈ کے خلاف آگاہی مہمات بھی شروع ہو چکی ہیں۔ انسٹاگرام پر ’’جعلی شہزادے کے جھانسے میں نہ آئیں‘‘ کے عنوان سے ایک آگاہی اکاؤنٹ قائم کیا گیا ہے، جبکہ چینج ڈاٹ او آر جی پر اسٹاپ فزّا اسکیم کے نام سے ایک درخواست بھی دائر کی گئی ہے، جس میں دبئی کے ولی عہد کے عملے سے اپیل کی گئی ہے کہ عوام کو ان جعلسازوں کے بارے میں خبردار کیا جائے جو ان کے نام پر دبئی کے فون نمبرز استعمال کر کے شادی، عطیات یا جعلی دستاویزات کے بہانے بڑی رقوم مانگتے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ متاثرین سے اکثر ایسی بینک اکاؤنٹس میں رقم جمع کروائی جاتی ہے جو ان کے اپنے ملک کے بجائے دوسرے ممالک میں ہوتے ہیں، جبکہ بعض کیسز میں کرپٹو کرنسی بھی استعمال کی جاتی ہے، جس سے رقم کا سراغ لگانا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے فراڈ میں مصنوعی ذہانت نے نئی پیچیدگی پیدا کر دی ہے۔ اب انٹرنیٹ پر ایسے اے آئی ٹولز آسانی سے دستیاب ہیں جو کسی بھی معروف شخصیت کا چہرہ، حرکات اور تاثرات حقیقی انداز میں نقل کر سکتے ہیں۔ بعض جدید ٹولز حقیقی وقت میں ویڈیو کال کے دوران بھی چہرے اور آواز کو اس طرح بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ عام صارف کے لیے اصلی اور جعلی میں فرق کرنا مشکل ہو جائے۔
کارنیل یونیورسٹی کے ماہر ڈیوڈ رینڈ نے اے ایف پی سے گفتگو میں خبردار کیا کہ اے آئی ٹیکنالوجی تیزی سے بہتر ہو رہی ہے اور جلد ہی ریئل ٹائم ویڈیو ڈیپ فیکس مزید زیادہ قابلِ یقین ہو جائیں گے۔ ان کے بقول اگر یہ رجحان اسی رفتار سے آگے بڑھا تو مستقبل میں کسی بھی آن لائن ویڈیو یا آڈیو گفتگو کی صداقت پرکھنا بنیادی طور پر نہایت مشکل ہو جائے گا۔
یہ پہلا موقع نہیں جب کسی معروف شخصیت کی شناخت فراڈ کے لیے استعمال کی گئی ہو۔ گزشتہ برس فرانس میں بھی حکام نے ایسے جعلسازوں کی تلاش کے لیے تحقیقات شروع کی تھیں جنہوں نے اداکار بریڈ پٹ کے نام پر ایک خاتون سے 8 لاکھ 30 ہزار یورو سے زائد رقم ہتھیا لی تھی۔
عالمی اینٹی اسکیم اتحاد کے مطابق دنیا بھر میں صارفین نے گزشتہ سال مختلف اقسام کے فراڈ، خصوصاً رومانوی دھوکے، کے نتیجے میں مجموعی طور پر 442 ارب ڈالر کا نقصان اٹھایا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے اے آئی ٹیکنالوجی عام ہوتی جائے گی، آن لائن محبت، سرمایہ کاری اور ملازمت کے نام پر ہونے والے فراڈ میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، اس لیے صارفین کو غیر معمولی احتیاط کی ضرورت ہے۔











