: وسطی ایشیائی ملک تاجکستان میں نومولود بچوں کے نام رکھنے کے معاملے پر سرکاری پابندیوں نے والدین کو نئی مشکل میں ڈال دیا ہے۔ حکام کی جانب سے منظور شدہ ناموں کی فہرست کے باہر موجود ناموں کو رجسٹر کرنے سے انکار کیا جا رہا ہے، جس کے باعث متعدد خاندان بیوروکریسی کے چکر میں پھنس گئے ہیں۔ حکومت اس پالیسی کو تاجک ثقافت کے فروغ، روسی اثر و رسوخ میں کمی اور مذہبی انتہاپسندی کے تدارک کا حصہ قرار دیتی ہے، تاہم ناقدین کے مطابق یہ اقدام نجی زندگی اور خاندانی روایات میں غیر معمولی مداخلت بن چکا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق دارالحکومت دوشنبے کی رہائشی 30 سالہ شخنوزہ نزارووا نے اپنی نومولود بیٹی کے لیے “دنیا” نام منتخب کیا تھا۔ ان کے مطابق یہ نام پہلے سرکاری فہرست میں موجود تھا، لیکن جب بیٹی کی پیدائش کے بعد وہ برتھ سرٹیفکیٹ بنوانے پہنچیں تو حکام نے بتایا کہ فہرست کی تازہ اپ ڈیٹ کے بعد یہ نام نکال دیا گیا ہے۔ نزارووا کا کہنا ہے کہ بچی کی پیدائش کو ایک ماہ گزر چکا ہے لیکن اب تک انہیں یہ نہیں بتایا گیا کہ اگر پسندیدہ نام فہرست میں شامل نہ ہو تو والدین کیا کریں۔
اسی طرح 27 سالہ گوردووارید مامادجونوا، جو اپنی دوسری بیٹی کی پیدائش کی منتظر ہیں، بھی اسی مسئلے سے دوچار ہیں۔ وہ اپنی بیٹی کا نام “یاسمینہ” رکھنا چاہتی ہیں، مگر یہ نام بھی منظور شدہ فہرست میں شامل نہیں۔ ان کے مطابق حکام اس کے بدلے “یوسومن” یا “یوسامین” جیسے تاجک انداز کے نام تجویز کرتے ہیں۔ مامادجونوا بتاتی ہیں کہ پہلی بیٹی کے وقت بھی انہیں اپنی پسند کے “عائشہ” کے بجائے سرکاری فہرست کے مطابق “اوئیشہ” نام اختیار کرنا پڑا تھا، اور اب وہ تذبذب کا شکار ہیں کہ دوسری بار بھی سرکاری نام مانیں یا کسی نئے نام پر سمجھوتہ کریں۔
تاجکستان میں بچوں کے ناموں کی یہ سرکاری فہرست تقریباً 10 برس قبل متعارف کرائی گئی تھی اور اسے رواں سال فروری میں دوبارہ اپ ڈیٹ کیا گیا۔ اس فہرست میں ایسے ناموں کو شامل نہیں کیا جاتا جنہیں حکام “غیر ملکی” یا “غیر تاجک” تصور کرتے ہیں۔ اس قانون کا اطلاق صرف نسلی تاجک خاندانوں پر ہوتا ہے۔
تاجکستان تقریباً ایک کروڑ آبادی والا ایک سیکولر مگر مسلم اکثریتی ملک ہے، جہاں صدر امام علی رحمان طویل عرصے سے اقتدار میں ہیں۔ رحمان نے گزشتہ برسوں میں قومی شناخت کو اپنے انداز سے ازسرِ نو تشکیل دینے کی کوشش کی ہے۔ ایک طرف انہوں نے ملک کو سوویت ماضی کے اثرات سے دور لے جانے کی بات کی، دوسری طرف مذہب، خاص طور پر سیاسی یا شدت پسند اسلام، پر ریاستی گرفت مزید سخت کی۔ حکومت کے نزدیک بچوں کے ناموں کا مسئلہ بھی اسی قومی شناخت کے منصوبے کا حصہ ہے۔
صدر رحمان 2019 میں یہ کہہ چکے ہیں کہ بچوں کے ناموں کے انتخاب میں “غیر ملکی چیزوں کی تمجید” کسی صورت قابل قبول نہیں، کیونکہ اس سے آنے والی نسلیں اپنی تاریخی جڑوں سے دور ہو جاتی ہیں۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ حکام کے نزدیک “قابل قبول تاجک نام” کی واضح تعریف موجود نہیں۔ بعض اسلامی نام، جیسے یاسین، امیرہ یا ریاض، فہرست سے باہر ہیں، جبکہ محمد اور کریم جیسے نام قابل قبول سمجھے جاتے ہیں۔ یہی ابہام والدین کے لیے الجھن کا باعث بن رہا ہے۔
وسطی ایشیا میں بچوں کے نام صرف شناخت کا معاملہ نہیں بلکہ خاندان، ثقافت اور جذباتی وابستگی کا اہم حصہ سمجھے جاتے ہیں۔ وہاں روایتی طور پر بچے کے نام میں پیدائش کے حالات، مقام، خاندان کی خواہشات یا کسی خاص خوبی کی علامت شامل کی جاتی ہے۔ 56 سالہ بداخشون تورسنووا نے اے ایف پی کو بتایا کہ ان کا نام اس خطے کے نام پر رکھا گیا تھا جہاں سے ان کی والدہ کا تعلق تھا۔ ان کے مطابق سوویت دور میں مذہبی شناخت دبائی جاتی تھی، لیکن آزادی کے بعد جب مذہبی پابندیاں کم ہوئیں تو لوگوں نے اپنے بچوں کے لیے زیادہ اسلامی نام رکھنے شروع کر دیے۔
ماہرین کے مطابق تاجک حکومت کا یہ رویہ صرف ناموں تک محدود نہیں۔ صدر رحمان نے حالیہ برسوں میں اسلامی شناخت کے نمایاں مظاہر کے خلاف بھی سخت اقدامات کیے ہیں۔ خواتین کے لیے حجاب پر پابندی عائد کی گئی، نوجوان مردوں کی لمبی داڑھیوں کے خلاف کارروائیاں ہوئیں، اور حکومت نے خود کو شدت پسندی کے خلاف ایک مضبوط دیوار کے طور پر پیش کیا۔ تاجک حکام کو خدشہ رہا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی واپسی اور ماضی میں تاجک شہریوں کی جہادی گروہوں میں شمولیت جیسے عوامل ملک کے اندر مذہبی انتہاپسندی کو ہوا دے سکتے ہیں۔
رحمان خود اکثر یہ کہتے رہے ہیں کہ وہ “سب سے پہلے تاجک اور بعد میں مسلمان” ہیں۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے روسی اثر کم کرنے کے لیے بھی علامتی اقدامات کیے۔ 2007 میں انہوں نے اپنے نام سے روسی طرز کا “-وف” لاحقہ ختم کیا اور 2016 میں نومولود بچوں کے ناموں میں ایسے روسی لاحقے لگانے پر پابندی عائد کر دی گئی۔
تاہم تاجکستان کی معاشی حقیقت اس قومی شناختی مہم کے راستے میں ایک بڑی رکاوٹ بھی ہے۔ ملک کی معیشت بڑی حد تک روس سے جڑی ہوئی ہے اور لاکھوں تاجک شہری روزگار کے لیے روس میں مقیم ہیں۔ ایسے میں روسی اثر سے مکمل دوری ممکن نہیں۔ روس میں کام کرنے والے 45 سالہ تاجک شہری علی شیر رستموف نے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ ایک وقت میں جذبۂ حب الوطنی کے تحت اپنے کاغذات تبدیل کر کے مکمل تاجک طرز کا نام اختیار کرنا چاہتے تھے اور “-وف” ختم کرنا چاہتے تھے، لیکن روس میں سخت امیگریشن قوانین، شہریت کے مسائل اور کاغذی کارروائی کی پیچیدگی نے انہیں یہ فیصلہ ترک کرنے پر مجبور کر دیا۔
رستموف کے مطابق وہ روسی شہریت حاصل کرنا بھی چاہتے تھے تاکہ وہاں روزمرہ زندگی آسان ہو سکے، مگر نام کی تبدیلی کا عمل نہ صرف پیچیدہ تھا بلکہ مہنگا بھی، اس لیے آخرکار انہوں نے اپنا پرانا نام ہی برقرار رکھا۔
تاجکستان میں ناموں کے اس تنازع نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ ریاست کو قومی شناخت کے نام پر شہریوں کی نجی زندگی میں مداخلت کی حد کہاں تک ہونی چاہیے۔ ایک طرف حکومت اسے ثقافتی تحفظ، حب الوطنی اور شدت پسندی سے بچاؤ کا ذریعہ قرار دیتی ہے، تو دوسری طرف بہت سے والدین اسے اپنی ذاتی پسند، مذہبی وابستگی اور خاندانی روایت پر قدغن سمجھتے ہیں۔











