مصر نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد آسٹریلیا کو پنالٹی شوٹ آؤٹ میں شکست دے کر فیفا ورلڈ کپ کے پری کوارٹر فائنل (لاسٹ 16) میں جگہ بنا لی، جہاں اس کا ممکنہ مقابلہ دفاعی چیمپئن ارجنٹینا سے ہو سکتا ہے، بشرطیکہ ارجنٹینا اپنے اگلے میچ میں کامیابی حاصل کرے۔
مقررہ 90 منٹ اور اضافی وقت کے اختتام پر دونوں ٹیمیں 1-1 سے برابر تھیں۔ پنالٹی شوٹ آؤٹ میں مصر نے اعصاب پر قابو رکھتے ہوئے کامیابی سمیٹی، جبکہ آسٹریلیا کے دو کھلاڑیوں کی غلطیوں نے میچ کا رخ بدل دیا۔
مصر نے میچ کے 13ویں منٹ میں امام عاشور کے ہیڈر کے ذریعے برتری حاصل کی، تاہم دوسرے ہاف میں آسٹریلیا کو اس وقت برابری کا موقع ملا جب مصری مدافع محمد ہانی نے دباؤ میں آ کر گیند اپنے ہی جال میں پہنچا دی۔
اضافی وقت میں دونوں ٹیمیں فیصلہ کن گول نہ کرسکیں، جس کے بعد مقابلہ پنالٹی شوٹ آؤٹ میں داخل ہوا۔
مصری کپتان محمد صلاح جو انجری کے بعد میدان میں اترے تھے، اگرچہ اوپن پلے میں زیادہ مؤثر ثابت نہ ہوئے، لیکن پنالٹی شوٹ آؤٹ میں انہوں نے انتہائی اعتماد کے ساتھ پنینکا اسٹائل میں پنالٹی اسکور کی۔
میچ کے بعد جذباتی صلاح نے کہا کہ انہوں نے ساتھی کھلاڑیوں سے کہا تھا کہ ورلڈ کپ کا اسٹیج سب سے بڑا ہے، دباؤ کو خود پر حاوی نہ ہونے دیں اور کھیل سے لطف اٹھائیں۔ اگر کسی نے یہ پنالٹی اس انداز میں لینی تھی تو وہ میں تھا۔ میرے تجربے کی وجہ سے میں ٹیم کا اعتماد بڑھانا چاہتا تھا۔
دوسری جانب آسٹریلیا کے کوچ ٹونی پوپووچ نے پنالٹی شوٹ آؤٹ سے قبل تجربہ کار گول کیپر کو میدان میں اتارنے کا جوا کھیلا، تاہم یہ حکمت عملی کامیاب نہ ہو سکی۔ آسٹریلیا کے نوجوان ڈیفنڈر لوکاس ہیرنگٹن کی پنالٹی کراس بار سے ٹکرا گئی، جبکہ آخر میں حسام عبدالمجید نے فیصلہ کن پنالٹی اسکور کرکے مصر کو تاریخی فتح دلائی۔
اس کامیابی کے ساتھ مصر نے اپنی تاریخ میں پہلی بار فیفا ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں فتح حاصل کی، جبکہ آسٹریلیا ایک بار پھر ناک آؤٹ مرحلے سے آگے نہ بڑھ سکا۔











