امریکا آج اپنی آزادی کی 250ویں سالگرہ منا رہا ہے، تاہم یہ تاریخی موقع ایسے وقت آیا ہے جب ملک شدید سیاسی تقسیم، نظریاتی اختلافات اور غیر معمولی گرمی کی لہر کا سامنا کر رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دارالحکومت واشنگٹن میں نیشنل مال پر بڑے عوامی اجتماع، فوجی فضائی مظاہروں اور شاندار آتش بازی کا اہتمام کیا ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ شدید گرمی کے باوجود طویل خطاب کریں گے تاکہ اپنی توانائی اور عزم کا اظہار کر سکیں۔
اس سے قبل صدر ٹرمپ نے ماؤنٹ رشمور پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکی شناخت ایک مرتبہ پھر حملوں کی زد میں ہے۔ انہوں نے ملک میں “کمیونسٹ خطرے” کے دوبارہ ابھرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے بائیں بازو کے شدت پسند عناصر کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔
امریکہ میں جاری شدید گرمی کی لہر کے باعث تقریباً 16 کروڑ افراد شدید یا انتہائی ہیٹ وارننگ کے زیر اثر ہیں، جس سے مختلف شہروں میں یومِ آزادی کی تقریبات متاثر ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب امریکی عوام اس موقع پر جشن کے ساتھ ساتھ ملک کی موجودہ صورتحال پر بھی غور و فکر کر رہے ہیں۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق 61 فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ ملک اب آزادی کے اعلان میں بیان کیے گئے بنیادی اصولوں پر پوری طرح عمل نہیں کر رہا، جبکہ اس معاملے پر ریپبلکن اور ڈیموکریٹ ووٹرز کی آراء واضح طور پر منقسم ہیں۔
کئی شہریوں نے ملک میں بڑھتی ہوئی نفرت، سماجی تقسیم اور خارجہ پالیسی پر تشویش کا اظہار کیا، جبکہ بعض امریکیوں کا کہنا ہے کہ آزادیِ اظہار، مذہبی آزادی اور بنیادی حقوق آج بھی امریکہ کی بڑی طاقت ہیں۔
مقامی قبائلی برادری کے نمائندوں نے بھی اس موقع پر یاد دلایا کہ امریکا کی سرزمین پر مقامی باشندوں کی تاریخ 250 برس سے کہیں زیادہ قدیم ہے، جسے قومی تاریخ کا حصہ تسلیم کیا جانا چاہیے۔











