فیفا ورلڈ کپ کے آخری 32 مرحلے میں دفاعی چیمپئن ارجنٹائن کے خلاف تاریخی مزاحمت کے باوجود کیپ ورڈے کا سفر اختتام پذیر ہوگیا، تاہم ٹیم کی شاندار کارکردگی نے دنیا بھر میں فٹبال شائقین کو متاثر کیا۔
ارجنٹائن ا نے سنسنی خیز مقابلے میں اضافی وقت کے 111ویں منٹ میں ہونے والے خودکار (اون) گول کی بدولت 3-2 سے کامیابی حاصل کی۔ یہ گول کیپ ورڈے کے ڈیفنڈر ڈائنی بورجیس سے دباؤ کے باعث ہوگیا۔
میچ کے بعد کیپ ورڈے کے دفاعی کھلاڑی پیکو لوپیس نے کہا کہ ان کی ٹیم نے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ چھوٹے ممالک بھی بڑے خواب دیکھ سکتے ہیں اور بڑی ٹیموں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ہم نے ثابت کیا کہ اگر جذبہ مضبوط ہو تو کچھ بھی ناممکن نہیں۔ امید ہے ہماری کارکردگی نوجوان کیپ ورڈین کھلاڑیوں کے لیے نئی امید بنے گی۔
محض پانچ لاکھ سے کچھ زائد آبادی پر مشتمل افریقی جزیرہ نما ملک کیپ ورڈے نے اپنے پہلے ہی ورلڈ کپ میں گروپ مرحلے کے دوران مضبوط ٹیموں کے خلاف شاندار کھیل پیش کیا اور ناک آؤٹ مرحلے میں بھی عالمی چیمپئن کو سخت ٹکر دی۔
کیپ ورڈے کے تجربہ کار گول کیپر ووزینہا بھی ٹورنامنٹ کی نمایاں شخصیات میں شامل رہے۔ 40 سالہ گول کیپر نے کہا کہ ورلڈ کپ میں شرکت صرف ٹیم ہی نہیں بلکہ پورے ملک کا خواب تھا، اور اگرچہ شکست کا دکھ ہے، لیکن ٹیم اپنی کارکردگی پر فخر کرتی ہے۔
دوسری جانب ارجنٹینا کے کپتان لیونل میسی نے ورلڈ کپ میں اپنا 20واں گول اسکور کیا، تاہم کیپ ورڈے نے دو مرتبہ خسارہ پورا کرکے عالمی چیمپئنز کو سخت امتحان میں ڈال دیا۔
آئرلینڈ میں کلب فٹبال کھیلنے والے پیکو لوپس نے کہا کہ اس ورلڈ کپ کے بعد اب دنیا جان چکی ہے کہ کیپ ورڈے کہاں ہے اور اس ملک کے فٹبالرز بھی بہترین ٹیموں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔











