اہم ترین

آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین : تہران میں لاکھوں افراد کا اظہار عقیدت

ایران کے دارالحکومت تہران میں سابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے ہمراہ شہید اہل خانہ کے سوگ میں قومی سطح پر تقریبات آج بروز ہفتہ دوسرے روز بھی جاری ہیں۔ علی خامنہ ای کو ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جنگ کے پہلے روز ایک فضائی حملے میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔

اس سلسلے میں ہفتے کو صبح سویرے سے ہی بڑی تعداد میں لوگ دارالحکومت تہران میں گرینڈ مصلیٰ مسجد میں پہنچنا شروع ہوئے، یہ وہ جگہ ہے، جہاں آیت اللہ خامنہ ای اور حملے میں مارے گئے ان کے اہل خانے کے تابوت عوامی دیدار کے لیے رکھے گئے ہیں۔ سرکاری ٹیلی ویژن پر اس تقریب کی براہ راست کوریج بھی کی جا رہی ہے۔

تہران میں یہ سوگواری تقریبات تین روز تک جاری رہیں گی۔ اس کے بعد خامنہ ای کی میت کو قم اور پھر عراق لے جایا جائے گا۔ اس کے بعد آئندہ جمعرات کو انہیں ان کے آبائی شہر مشہد میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔

آیت اللہ خامنہ ای 86 برس کی عمر میں 28 فروری کو تہران میں ایک فضائی حملے میں شہید ہوئے تھے۔ ان کی شہادت کے بعد ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان کئی ہفتوں تک شدید لڑائی جاری رہی، جس میں ایرانی حمایت یافتہ لبنانی تنظیم حزب اللہ سمیت خطے میں موجود دیگر مسلح گروہ بھی شریک ہوئے۔ بعد ازاں اپریل کے آغاز میں امریکی اور ایرانی نمائندوں کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق ہوا۔

سپریم لیڈر کی حیثیت سے آیت اللہ خامنہ ای ایران کی اعلیٰ ترین سیاسی اور مذہبی شخصیت تھے اور تمام اہم فیصلوں کا حتیمی اختیار انہی کے پاس تھا۔

دنیا بھر کی نظریں اس بات پر بھی مرکوز ہیں کہ آیا ان تقریبات میں علی خامنہ ای کے بیٹے اور موجودہ ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای شرکت کرتے ہیں یا نہیں۔ مجتبیٰ خامنہ ای اس حملے میں شدید زخمی ہوئے تھے جس میں ان کے والد شہید ہوئے اور تقرری کے بعد سے وہ عوامی سطح پر نظر نہیں آئے، جس کے باعث ان کی صحت کے بارے میں مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔

پاکستان