بالی ووڈ اداکارہ کریتی سینن نے فلم انڈسٹری میں خواتین اور مرد فنکاروں کے ساتھ ہونے والے مختلف رویوں پر کہا ہے کہ آج بھی کئی مواقع پر خواتین اداکاراؤں کو مرد فنکاروں کے مقابلے میں کم اہمیت دی جاتی ہے۔
ایک انٹرویو میں کریتی سینن نے بتایا کہ انہوں نے ماڈلنگ، انجینئرنگ اور فلم انڈسٹری تینوں شعبوں میں کام کیا، تاہم سب سے زیادہ صنفی امتیاز کا سامنا انہیں بالی ووڈ میں کرنا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ کیریئر کے آغاز میں زیادہ تر فلموں میں مرد اداکار مرکزی کردار میں ہوتے تھے جبکہ خواتین کے کردار اکثر صرف ہیرو کی محبوبہ تک محدود رہتے تھے۔ ان کے مطابق اگرچہ وقت کے ساتھ حالات میں بہتری آئی ہے، لیکن مکمل برابری ابھی بھی حاصل نہیں ہو سکی۔
کریتی سینن کا کہنا تھا کہ وہ اپنے کردار اور مناظر کو بہتر بنانے کے لیے سوالات کرتی ہیں، مگر جب کوئی خاتون اداکارہ ایسا کرے تو اسے زیادہ سوال کرنے والی یا مشکل قرار دے دیا جاتا ہے، جبکہ یہی سوال اگر کوئی مرد اداکار کرے تو اسے اپنے کام کے لیے سنجیدہ اور پیشہ ور سمجھا جاتا ہے۔
اداکارہ نے مزید کہا کہ فلمی سیٹ پر بھی بعض اوقات مرد فنکاروں کو بہتر کمرے، گاڑیاں اور زیادہ ترجیح دی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں ان سہولیات پر اعتراض نہیں، لیکن خواتین کو کم اہمیت دیے جانے کا احساس تکلیف دہ ہوتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسسٹنٹ ڈائریکٹرز اکثر مرد اداکاروں کے ساتھ زیادہ احتیاط سے پیش آتے ہیں، جبکہ خواتین فنکاروں کو نسبتاً ہلکا لیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق اس سوچ میں تبدیلی ناگزیر ہے تاکہ فلمی صنعت میں تمام فنکاروں کے ساتھ مساوی اور منصفانہ رویہ اختیار کیا جا سکے۔











