اہم ترین

سائنسی تحقیق اور خلائی میدان میں چین کی عالمی برتری

چین جدید سائنسی تحقیق اور خلائی ٹیکنالوجی کے میدان میں تیزی سے اپنی پوزیشن مستحکم کر رہا ہے، جس کے باعث عالمی خلائی مقابلہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اب خلائی شعبے میں امریکہ کا سب سے بڑا حریف چین بن کر ابھرا ہے۔

چین کی پہلی خاتون سویلین خلا باز لائی کائی ینگ اس وقت اپنے دو ساتھیوں کے ہمراہ تیان گونگ خلائی اسٹیشن پر مختلف سائنسی تجربات میں مصروف ہیں۔ یہ جدید خلائی لیبارٹری مائیکرو گریویٹی میں تحقیق کا اہم مرکز سمجھی جاتی ہے، جہاں حاصل ہونے والے نتائج مستقبل کے انسانی خلائی مشنز کے لیے مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

دوسری جانب امریکی خلائی ادارہ ناسا 2032 تک بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کو ریٹائر کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس کے بعد چین واحد ملک ہو گا جو مستقل بنیادوں پر اپنے عملے کے ساتھ خلائی اسٹیشن چلا رہا ہوگا۔

حالیہ عالمی تحقیقی اشاریوں کے مطابق سائنسی تحقیق میں بھی چین نمایاں برتری حاصل کر چکا ہے۔ دنیا کے بہترین تحقیقی اداروں کی فہرست میں چینی اداروں کا غلبہ ہے، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلسل سرمایہ کاری، جدید تحقیقی سہولیات، عالمی تعاون اور اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں طویل المدتی منصوبہ بندی نے چین کو یہ مقام دلایا ہے۔

چاند پر انسانی مشن بھیجنے کی دوڑ میں بھی امریکہ اور چین ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں۔ چین نے 2030 تک انسان بردار قمری مشن روانہ کرنے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے، جبکہ امریکہ آرٹیمس پروگرام کے تحت چاند کے جنوبی قطب پر خلانورد اتارنے کی تیاری کر رہا ہے۔ چین مستقبل میں چاند پر مستقل تحقیقی مرکز قائم کرنے کی منصوبہ بندی بھی کر رہا ہے اور وہ چاند کے دور والے حصے سے نمونے حاصل کرنے والا دنیا کا واحد ملک بن چکا ہے۔

بیجنگ اپنے خلائی پروگرام کو سفارتی تعلقات کے فروغ کے لیے بھی استعمال کر رہا ہے۔ رواں برس چین پہلی مرتبہ اپنے خلائی اسٹیشن پر غیر ملکی خلا باز کو بھیجنے کا منصوبہ رکھتا ہے، جس کے لیے پاکستان کے دو امیدوار تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ ان میں سے ایک کو آئندہ مشن کے لیے منتخب کیا جائے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خلائی تحقیق میں چین کی مسلسل پیش رفت نہ صرف سائنسی میدان بلکہ عالمی سیاست اور بین الاقوامی تعاون کی نئی سمتوں کا بھی تعین کر رہی ہے۔

پاکستان