اہم ترین

چین میں رشوت اور کرپشن ثابت ہونے والے سینیئر افسر کو سزائے موت

چین کی ایک عدالت نے مشرقی شہر نانجنگ کے سابق سینئر سرکاری عہدیدار یانگ یولن کو تقریباً 2.2 ارب یوان (324 ملین امریکی ڈالر) مالیت کی رشوت لینے اور دیگر سنگین مالی جرائم میں ملوث ہونے پر سزائے موت سنا دی ہے۔

جیانگ سو صوبے کے شہر چانگژو کی انٹرمیڈیٹ پیپلز کورٹ کے مطابق یانگ یولن نے 1993 سے 2023 کے دوران مختلف سرکاری عہدوں پر فائز رہتے ہوئے کاروباری شخصیات اور دیگر افراد سے منصوبوں کی منظوری، کاروباری سہولتوں، اراضی کے حصول اور مالی معاونت کے بدلے بھاری رقوم اور قیمتی جائیدادیں وصول کیں۔

عدالت نے انہیں رشوت ستانی کے علاوہ سرکاری فنڈز میں خردبرد، رشوت دینے، عوامی رقوم کے ناجائز استعمال، اختیارات کے غلط استعمال اور منی لانڈرنگ کے الزامات میں بھی قصوروار قرار دیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ یانگ یولن کی ذاتی جائیداد ضبط کی جائے اور رشوت کے ذریعے حاصل کی گئی تمام رقم اور اثاثے واپس لیے جائیں۔

عدالتی بیان کے مطابق سماعت کے دوران یانگ یولن نے اپنے آخری بیان میں جرم کا اعتراف کرتے ہوئے ندامت اور پشیمانی کا اظہار بھی کیا۔

یہ مقدمہ چین کے صدر شی جن پنگ کی طویل عرصے سے جاری انسدادِ بدعنوانی مہم کے تحت سامنے آیا، جس کے بارے میں ناقدین کا کہنا ہے کہ اس مہم کو بعض اوقات سیاسی مخالفین کو ہٹانے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

چین میں حالیہ برسوں کے دوران بدعنوانی کے بڑے مقدمات میں سزائے موت سنانے کا یہ ایک اور نمایاں واقعہ ہے۔ اس سے قبل 2021 میں سرکاری کمپنی کے سابق سربراہ لائی شیاومن کو رشوت، خردبرد اور دیگر جرائم پر سزائے موت دے کر پھانسی دی گئی تھی، جبکہ 2024 میں اندرونی منگولیا کے سابق مقامی عہدیدار لی جیان پنگ کو بھی بدعنوانی کے جرم میں سزائے موت پر عمل درآمد کیا گیا تھا۔ مزید برآں ژانگ ژونگ شینگ کو 2018 میں ایک ارب یوان سے زائد رشوت لینے پر سزائے موت سنائی گئی تھی، تاہم بعد ازاں اپیل پر اس سزا کو معطل سزائے موت اور عمر قید میں تبدیل کر دیا گیا۔

چینی حکام کے مطابق یانگ یولن کے خلاف کارروائی ملک میں بدعنوانی کے خاتمے اور سرکاری نظام میں شفافیت کے فروغ کے لیے جاری مہم کا حصہ ہے۔

پاکستان