روسی افواج کی جانب سے یوکرین کے دارالحکومت کیف اور گرد و نواح میں رات گئے شدید میزائل اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں کم از کم 16 افراد ہلاک ہو گئے۔ یوکرینی حکام کے مطابق صرف کیف شہر میں 15 افراد جان کی بازی ہارے جبکہ کیف ریجن میں ایک شخص ہلاک ہوا۔
حملوں کے بعد امدادی کارکن تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے میں لاشوں اور زخمیوں کی تلاش میں مصروف رہے۔ حملے میں عمارتوں کے علاوہ ایک بچوں کا اسپتال بھی متاثر ہوا۔ متاثرہ علاقوں میں شہریوں نے تباہ شدہ گھروں اور عمارتوں کے ملبے کے مناظر دیکھے۔
یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے روسی حملوں میں اضافے کو جنگ میں ’’مزید کشیدگی‘‘ قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے مؤثر ردعمل کا مطالبہ کیا۔ ان کے مطابق روس نے بڑے پیمانے پر حملے کی تیاری کی اور مختلف اقسام کے بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے ساتھ ڈرونز استعمال کیے۔
یوکرینی فضائیہ کے مطابق روس نے کم از کم 44 میزائل داغے، جن میں سے 39 کو مار گرایا گیا۔ حکام کے مطابق حملہ تقریباً نو گھنٹے جاری رہا، جبکہ کیف میں فضائی حملے کا الرٹ جاری ہونے کے تین منٹ سے بھی کم وقت بعد ابتدائی دھماکے شروع ہوگئے۔
یوکرینی حکام کے مطابق روس نے کیف کے قریب بورِسپل میں گوداموں کو بھی نقصان پہنچایا۔ روسی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا کہ اس نے کیف اور گرد و نواح میں فوجی صنعتی تنصیبات، ٹرانسپورٹ و لاجسٹکس مرکز اور گوداموں کو نشانہ بنایا۔
کیف کو روسی بیلسٹک میزائلوں کو روکنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ یوکرین کے مطابق ایسے میزائلوں کے خلاف مؤثر دفاع کے لیے امریکی ساختہ پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام انتہائی اہم ہے، جس کے مزید نظام اور مدد فراہم کرنے کا مطالبہ کیف اپنے اتحادیوں سے کرتا رہا ہے۔
حملوں کے اثرات یوکرین کے ہمسایہ ممالک تک بھی پہنچے۔ پولینڈ نے یوکرین سے متصل علاقوں میں اپنے فضائی دفاع کو فعال کرتے ہوئے جنگی طیارے فضا میں بھیجے۔ رومانیہ میں بھی یوکرینی سرحد کے قریب فضائی اہداف کی نشاندہی کے بعد نیٹو مشن پر موجود ہسپانوی جنگی طیارے اور رومانیہ کا ایک ہیلی کاپٹر روانہ کیا گیا۔
رومانیہ کی وزارت دفاع کے مطابق روسی ساختہ نوعیت کا ایک ڈرون اس کی فضائی حدود میں داخل ہونے کے بعد آبادی سے دور علاقے میں گر کر تباہ ہوگیا۔ دوسری جانب مالدووا نے بھی اپنی سرزمین پر روس کے استعمال کردہ شاہد طرز کے ایک ڈرون کے گرنے کی اطلاع دی، جس کے باعث سرحد کے قریب آگ بھڑک اٹھی۔
روس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے رات کے دوران یوکرین کی جانب سے بھیجے گئے 726 ڈرونز مار گرائے۔
یوکرین اور روس کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں تاحال کسی معاہدے تک نہیں پہنچ سکیں۔ روس کیف سے وسیع علاقائی اور سیاسی رعایتوں کا مطالبہ کرتا ہے جبکہ زیلنسکی ان شرائط کو مسترد کرتے ہوئے انہیں یوکرین کی مؤثر دستبرداری کے مترادف قرار دیتے ہیں۔











