اہم ترین

دنیا بھر میں خطرے کی گھنٹی: 2027 گرم ترین سال بننے کا خطرہ

ماہرینِ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ رواں سال کا ال نینو ایک صدی سے زائد عرصے میں سب سے شدید ہونے کی راہ پر ہے، جس کے نتیجے میں دنیا کے مختلف حصوں میں شدید موسمی حالات پیدا ہونے اور 2027 کے اب تک کا گرم ترین سال بننے کا امکان ہے۔

اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے میٹ آفس میں طویل مدتی پیش گوئی کے سربراہ کے مطابق 2026 کا ال نینو ایک صدی سے زیادہ عرصے کے دوران شدت کے اعتبار سے غیر معمولی واقعہ ثابت ہو سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل عرصے سے جاری انسانی سرگرمیوں کے باعث عالمی حدت کے اوپر ال نینو کی عارضی گرمی دنیا کو مستقبل، بالخصوص 2030 کی دہائی کے آخر میں متوقع موسمی حالات کی ایک جھلک دکھا سکتی ہے۔

ال نینو کیا ہے؟

ال نینو بحرالکاہل کے خط استوا کے قریب سمندری درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے کا قدرتی موسمیاتی مرحلہ ہے، جسے ال نینو-سدرن آسیلیشن (اینسو) کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔

یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب مشرق سے مغرب کی جانب چلنے والی تجارتی ہوائیں عارضی طور پر کمزور پڑ جاتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں مغربی بحرالکاہل میں جمع گرم پانی مشرق کی جانب منتقل ہو کر سطح سمندر پر آ جاتا ہے۔

سمندر کی سطح کا درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کے باعث بحرالکاہل کے خطے میں بارشوں اور بادلوں میں اضافہ ہوتا ہے، جس کے اثرات عالمی فضائی نظام تک پہنچتے ہیں۔ نتیجتاً دنیا کے بعض علاقوں میں زیادہ گرمی اور خشک سالی جبکہ دوسرے علاقوں میں نسبتاً ٹھنڈا اور زیادہ مرطوب موسم دیکھنے میں آ سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ال نینو کے اثرات پہلے ہی بعض علاقوں میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ انڈونیشیا میں طویل اور شدید خشک موسم کے باعث جنگلات میں آگ بھڑک اٹھی، جس نے لاکھوں ایکڑ رقبے کو متاثر کیا ہے۔

امریکی نیشنل اوشیانک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن (نوآ) کی ماہر مشیل لَیورُو نے کہا کہ زیادہ شدید ال نینو کے نتیجے میں اس موسمیاتی رجحان سے وابستہ متوقع اثرات بھی زیادہ نمایاں ہو سکتے ہیں، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ہر اثر کا لازمی طور پر رونما ہونا ضروری نہیں۔

صورتحال کتنی غیر معمولی ہے؟

بحرالکاہل کے نینو 3.4 خطے میں سمندر کی سطح کا یومیہ درجہ حرارت اس وقت 30 سالہ اوسط کے مقابلے میں تقریباً 2.6 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔

مختلف پیش گوئیوں کے مطابق رواں سال نومبر میں یہ درجہ حرارت معمول سے 3.9 ڈگری سینٹی گریڈ تک زیادہ ہو سکتا ہے، جو 2015 کے تقریباً 3 ڈگری سینٹی گریڈ کے ال نینو سے بھی نمایاں طور پر زیادہ ہوگا۔

اس صورتحال کے باعث 2026 بھی دنیا کے گرم ترین سالوں میں شامل ہونے کی دوڑ میں آ سکتا ہے، جبکہ ماہرین کے مطابق ال نینو کا زیادہ تر عالمی درجہ حرارت پر اثر اگلے سال محسوس ہوتا ہے، جس سے 2027 کے ریکارڈ گرم ترین سال بننے کا امکان انتہائی بڑھ جاتا ہے۔

ماہرینِ موسمیات زیگ ہاؤس فادر اور اینڈریو ڈیسلر کے حساب کے مطابق ال نینو عالمی درجہ حرارت میں عارضی طور پر تقریباً 0.3 ڈگری سینٹی گریڈ مزید اضافہ کر سکتا ہے۔ ان کے تخمینے کے مطابق 2027 میں عالمی درجہ حرارت صنعتی دور سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں تقریباً 1.76 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ہو سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اتنی گرمی ایک ہی سال میں جمع ہونا اس مستقبل کی جھلک ہو سکتی ہے جو عام حالات میں تقریباً ایک دہائی بعد متوقع ہے۔

نوآ کے سائنس دان مائیک میک فڈن کے مطابق اگر موسمیاتی ماڈلز کی پیش گوئیاں درست ثابت ہوئیں تو 2027 میں عالمی درجہ حرارت صنعتی دور سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں 1.7 ڈگری سینٹی گریڈ تک زیادہ ہو سکتا ہے۔

نوآ کے مطابق 1950 سے دستیاب اس کے ڈیٹا ریکارڈ میں اس ال نینو کے سب سے شدید ہونے کے امکانات 69 فیصد ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی کا کردار

سائنس دان اس بات پر متفق ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی ال نینو کے اثرات کو مزید شدید بنا رہی ہے۔ گرین ہاؤس گیسوں کے باعث گرم ہونے والی فضا زیادہ نمی جذب کر سکتی ہے، جس سے ال نینو سے وابستہ بارشیں زیادہ شدید ہو سکتی ہیں۔ اسی طرح بعض علاقوں میں مٹی زیادہ خشک ہونے سے خشک سالی بھی شدت اختیار کر سکتی ہے۔

تاہم اس بارے میں سائنسی اتفاقِ رائے مکمل نہیں کہ موسمیاتی تبدیلی خود ال نینو کے زیادہ طاقتور واقعات پیدا کرنے کا سبب بن رہی ہے یا نہیں۔

نوآ کے ماہر مائیک میک فڈن کے مطابق شواہد سامنے آ رہے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی ال نینو کے قدرتی چکر کو بھی تقویت دے سکتی ہے۔ ان کے مطابق گرم ہوتے ہوئے سمندری پانی کے باعث ال نینو پیدا کرنے والی ہوائیں سمندر کے درجہ حرارت میں تبدیلیوں کے لیے زیادہ حساس ہو سکتی ہیں، جس سے یہ موسمیاتی واقعات زیادہ تیزی سے شدت اختیار کر سکتے ہیں۔

ماہرین نے مرجانی چٹانوں کے قدیم ریکارڈ، 19ویں صدی سے دستیاب آلاتی مشاہدات اور موسمیاتی ماڈلز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ ایک صدی کے دوران ال نینو کے واقعات کی شدت میں تقریباً 10 فیصد اضافہ ہوا ہو سکتا ہے۔

پاکستان