روزمرہ زندگی میں اسمارٹ فون، وائرلیس ایئر بڈز، ہیڈ فون، اسمارٹ واچ اور دیگر ڈیوائسز کو آپس میں جوڑنے کے لیے بلیو ٹوتھ کا استعمال عام ہے، تاہم بہت سے صارفین یہ نہیں جانتے کہ بلیو ٹوتھ کی بنیادی طور پر دو بڑی اقسام ہیں اور دونوں کے استعمال کا مقصد مختلف ہے۔
ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق بلیو ٹوتھ کو بنیادی طور پر بلیو ٹوتھ کلاسک اور بلیو ٹوتھ لو انرجی (بی ایل ای) میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ دونوں وائرلیس کنکشن فراہم کرتے ہیں، لیکن ڈیٹا کی ترسیل، استعمال اور بجلی کی کھپت کے لحاظ سے ان میں نمایاں فرق ہے۔
بلیو ٹوتھ کلاسک کیا ہے؟
بلیو ٹوتھ کلاسک ان ڈیوائسز کے لیے زیادہ موزوں سمجھا جاتا ہے جنہیں مسلسل یا نسبتاً زیادہ مقدار میں ڈیٹا منتقل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ وائرلیس ہیڈ فون، ایئر فونز، اسپیکرز اور گاڑیوں کے آڈیو سسٹمز اس کی عام مثالیں ہیں۔
مثلاً فون کو بلیو ٹوتھ اسپیکر سے منسلک کرکے مسلسل گانا سننے یا وائرلیس ہیڈ فون پر کال کرنے اور آڈیو سننے کے لیے بلیو ٹوتھ کلاسک زیادہ موزوں ہوتا ہے۔
تاہم اس ٹیکنالوجی کی ایک اہم خامی نسبتاً زیادہ بیٹری خرچ ہونا ہے۔ محدود بیٹری والے چھوٹے آلات کے لیے یہ ہمیشہ بہترین انتخاب نہیں ہوتا۔
بلیو ٹوتھ لو انرجی یعنی بی ایل ای کیا ہے؟
بلیو ٹوتھ لو انرجی یا بی ایل ای کم توانائی استعمال کرتے ہوئے وائرلیس کنکشن برقرار رکھنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اسی وجہ سے یہ ان ڈیوائسز میں زیادہ استعمال ہوتا ہے جنہیں چھوٹی بیٹری پر طویل عرصے تک چلنا ہوتا ہے۔
اسمارٹ واچز، فٹنس بینڈز، مختلف سینسرز، اسمارٹ ہوم ڈیوائسز اور متعدد آئی او ٹی گیجٹس میں بی ایل ای عام طور پر استعمال ہوتا ہے۔
ایسے آلات کو عموماً مسلسل بڑی مقدار میں ڈیٹا منتقل کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ وہ وقفے وقفے سے کم مقدار میں معلومات بھیجتے ہیں۔ بی ایل ای اسی نوعیت کے کام کے لیے کم توانائی استعمال کرتا ہے۔
کلاسک اور بی ایل ای میں اصل فرق کیا ہے؟
دونوں ٹیکنالوجیز کے درمیان بنیادی فرق ان کے استعمال کا ہے۔ مسلسل آڈیو اور زیادہ یا مسلسل ڈیٹا ٹرانسفر کے لیے بلیو توتھ کلاسک زیادہ موزوں ہے، جبکہ کم توانائی میں کم مقدار میں ڈیٹا منتقل کرنے کے لیے بی ایل ای بہتر انتخاب ہے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ صارفین کے لیے ضروری ہے کہ بلیو ٹوتھ کا انتخاب کرتے وقت صرف نام یا ورژن دیکھنے کے بجائے ڈیوائس کی ضرورت، بیٹری اور استعمال کی نوعیت کو بھی مدنظر رکھیں۔










