فیس بک اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی میٹا نے بچوں اور نوجوانوں کو سوشل میڈیا کا عادی بنانے کے الزامات پر امریکا کی تقریباً تمام ریاستوں کے ساتھ مقدمات نمٹانے کے لیے آئندہ 10 برسوں کے دوران 18 ارب ڈالر تک ادا کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق امریکی حکام سے کئے گئے معاہدے کے تحت میٹا نوعمر صارفین کے لیے فیس بک اور انسٹاگرام کے استعمال کو روزانہ زیادہ سے زیادہ دو گھنٹے تک محدود کرے گی، جبکہ والدین کی اجازت کے بغیر رات 12 بجے سے صبح 6 بجے تک استعمال بھی بند ہوگا۔
کمپنی اسکول کے اوقات، یعنی صبح 8 بجے سے سہ پہر 3 بجے تک، نوجوان صارفین کو زیادہ تر پش نوٹیفکیشن بھی نہیں بھیجے گی۔ بچوں کو عمر کے لحاظ سے ممنوع مواد تک رسائی سے روکنے کے لیے حفاظتی اقدامات بھی مزید سخت کیے جائیں گے۔
معاہدے کے تحت میٹا کو اپنی ذاتی نوعیت کی سفارشات اور ہدفی اشتہارات ختم کرنے کا پابند نہیں کیا گیا۔ اسی طرح ایسے بعض مواد سے بھی نمٹنے کی شرط شامل نہیں جسے خود میٹا کے محققین نے نوجوانوں کے لیے نقصان دہ قرار دیا تھا، جن میں جسمانی خدوخال کے بارے میں منفی احساس پیدا کرنے والی پوسٹس بھی شامل ہیں۔
میٹا نے معاہدہ کرتے ہوئے کسی غلط کاری کا اعتراف نہیں کیا۔ کمپنی کے مطابق نوجوانوں کے لیے محفوظ اور مثبت تجربہ یقینی بنانا اس کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔
امریکا کی 47 ریاستوں کو 16.7 ارب ڈالر تک ادائیگی
معاہدے کے تحت میٹا امریکا کی 47 ریاستوں، واشنگٹن ڈی سی اور بعض امریکی علاقوں کو تقریباً 16.7 ارب ڈالر تک ادا کرے گی۔ کیلیفورنیا کو تقریباً 2.2 ارب ڈالر جبکہ نیویارک کو 1.1 ارب ڈالر ملنے کی توقع ہے۔
اس کے علاوہ ٹیکساس کے ساتھ ایک علیحدہ معاہدہ ہوا ہے جس کی مالیت ایک ارب ڈالر سے زائد ہے۔ بعض ریاستیں حاصل ہونے والی رقم کا کچھ حصہ بچوں کی ذہنی صحت کے پروگراموں کے لیے مختص کریں گی۔
معاہدے میں تقریباً 12.7 ارب ڈالر کی ادائیگی یقینی ہے جبکہ مزید 5 ارب ڈالر کی رقم اس بات سے مشروط ہے کہ اسنیپ چیٹ، ٹک ٹاک اور یوٹیوب بھی بچوں کے تحفظ کے لیے اسی نوعیت کے اقدامات اپناتے ہیں یا نہیں۔
امریکی عدالت نے مرکزی معاہدے کی منظوری دے دی ہے۔ مقدمے کی نگرانی کرنے والی امریکی ڈسٹرکٹ جج یویون گونزالیز راجرز نے معاہدے کو ’’اچھا قدم‘‘ قرار دیا۔
ہزاروں مقدمات اب بھی زیرِ سماعت
میٹا کو بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی صحت پر سوشل میڈیا کے مبینہ منفی اثرات کے حوالے سے اب بھی ہزاروں مقدمات کا سامنا ہے۔ ان مقدمات میں اسکول اضلاع، بلدیاتی اداروں، افراد اور دیگر سرکاری اداروں کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا کمپنیوں نے جان بوجھ کر بچوں کو اپنی پلیٹ فارمز کا عادی بنایا اور ذہنی صحت کے بحران میں کردار ادا کیا۔
امریکا کی 29 ریاستوں نے میٹا پر بچوں کے آن لائن پرائیویسی قوانین کی خلاف ورزی کا بھی الزام لگایا تھا۔ ان کا مؤقف تھا کہ کمپنی نے والدین کی اجازت کے بغیر بچوں کا ذاتی ڈیٹا جمع کیا اور اسے مصنوعی ذہانت کی تربیت کے لیے بھی استعمال کیا۔
طے پانے والے معاہدوں میں میٹا نے 459 ملین ڈالر کی ادائیگی کے ذریعے کیمبرج اینالیٹیکا اسکینڈل سے متعلق ریاستی پرائیویسی دعوے بھی نمٹا دیے۔ اس اسکینڈل میں لاکھوں فیس بک صارفین کا ذاتی ڈیٹا مبینہ طور پر غیر مجاز طریقے سے حاصل کیا گیا تھا۔
تاہم نیو میکسیکو اور فلوریڈا ان معاہدوں میں شامل نہیں ہوئے۔ نیو میکسیکو کے اٹارنی جنرل نے کہا کہ معاہدہ بچوں کے تحفظ کے لیے پیش رفت ضرور ہے، لیکن ان کے مقدمے میں سامنے آنے والی بعض اضافی حفاظتی تجاویز اس میں شامل نہیں۔
فلوریڈا نے بھی مقدمہ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور ریاست کے اٹارنی جنرل نے میٹا کی ادائیگیوں کو بچوں کو پہنچنے والے مبینہ نقصان کے مقابلے میں ناکافی قرار دیا ہے۔
میٹا کے ساتھ ہونے والا یہ معاہدہ دیگر سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف زیرِ سماعت مقدمات کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے، جبکہ دنیا بھر میں حکومتیں بچوں کو نقصان دہ آن لائن مواد اور سوشل میڈیا کے ممکنہ منفی اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے قوانین اور پابندیاں سخت کر رہی ہیں۔











