پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے دوسرے میچ کے پہلے روز میزبان ٹیم مشکلات سے دوچار رہی۔ پاکستانی بولرز کی نپی تلی گیند بازی کے باعث انگلینڈ نے دن کا کھیل ختم ہونے تک 9 وکٹوں کے نقصان پر 248 رنز بنائے۔ خراب روشنی کے باعث میچ مقررہ وقت سے پہلے روکنا پڑا۔
لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا، جس کے بعد انگلش ٹیم نے اپنی پہلی اننگز کا آغاز کیا۔ پاکستانی بولرز نے ابتدا ہی سے میزبان بلے بازوں کو کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں دیا اور وقفے وقفے سے وکٹیں حاصل کرکے انگلینڈ کو بڑے مجموعے سے دور رکھا۔
انگلینڈ کی جانب سے جیمی اسمتھ نے سب سے نمایاں بیٹنگ کرتے ہوئے 61 رنز بنائے، جبکہ جارڈن کوکس نے 55 رنز کی اننگز کھیلی۔ دونوں بلے بازوں نے نصف سنچریاں مکمل کیں، تاہم پاکستانی بولرز نے انہیں بڑی اننگز کھیلنے سے روک دیا۔
بین ڈکٹ اور لارنس 17،17 رنز بنا سکے جبکہ ہیری بروک نے 15 اور جوفرا آرچر نے 14 رنز کا اضافہ کیا۔ انگلینڈ کے نچلے نمبروں کے بلے باز بھی پاکستانی بولنگ کے سامنے زیادہ دیر مزاحمت نہ کرسکے۔
پاکستان کی جانب سے محمد عباس سب سے کامیاب بولر رہے۔ انہوں نے شاندار لائن اور لینتھ کے ساتھ انگلش بیٹنگ کو پریشان کیے رکھا اور 4 وکٹیں حاصل کیں۔ محمد علی نے 3 جبکہ خرم شہزاد نے ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔
خراب روشنی کے باعث جب پہلے دن کا کھیل ختم کیا گیا تو گس ایٹکنسن 34 اور جوش ٹنگ ایک رن پر کریز پر موجود تھے۔ انگلینڈ کی صرف ایک وکٹ باقی ہے، جسے حاصل کرنے کے بعد پاکستان اپنی پہلی اننگز کا آغاز کرے گا۔
لارڈز ٹیسٹ پاکستان کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ تین میچوں کی سیریز میں انگلینڈ کو پہلے ہی ایک صفر کی برتری حاصل ہے۔ پاکستان اگر یہ میچ جیتنے میں کامیاب ہوتا ہے تو سیریز برابر ہوجائے گی، جبکہ انگلینڈ کامیابی حاصل کرکے سیریز اپنے نام کرسکتا ہے۔
دوسرے روز پاکستانی ٹیم کی کوشش ہوگی کہ انگلینڈ کی آخری وکٹ جلد حاصل کرکے اپنی اننگز کا پراعتماد آغاز کیا جائے۔ 248 رنز پر 9 وکٹیں گرنے کے بعد پاکستان کو میچ میں اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کا اچھا موقع حاصل ہوگیا ہے۔











