ناروے کے بادشاہ ہیرالڈ پنجم 89 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔ ناروے کے شاہی محل نے جمعے کو ان کے انتقال کی تصدیق کردی۔
اے ایف پی کے مطابق ناروے کے بادشاہ ہیرالڈ پنجم یورپ کے معمر ترین حکمران تھے۔ ان کے انتقال کے بعد ان کے صاحبزادے اور سابق ولی عہد ہاکون ہشتم آئینی طور پر ناروے کے نئے بادشاہ بن گئے ہیں۔
ہیرالڈ پنجم نے جنوری 1991 میں اپنے والد بادشاہ اولاف پنجم کے انتقال کے بعد تخت سنبھالا تھا اور تقریباً ساڑھے تین دہائیوں تک ناروے کی بادشاہت کی قیادت کی۔
ہیرالڈ پنجم 1937 میں اوسلو کے قریب پیدا ہوئے اور وہ ناروے میں پیدا ہونے والے پہلے نارویجین شہزادے تھے جو کئی صدیوں بعد ملک میں پیدا ہوئے۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران نازی جرمنی کے ناروے پر قبضے کے وقت وہ کم عمری میں خاندان کے ہمراہ پہلے سویڈن اور پھر امریکا منتقل ہوگئے تھے، جبکہ ان کے والد اور دادا برطانیہ میں جلاوطنی اختیار کر گئے تھے۔
جنگ کے بعد شاہی خاندان 1945 میں ناروے واپس آیا۔ ہیرالڈ نے ناروے کے فوجی کالج اور برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی۔
وہ کشتی رانی کے شوقین تھے اور اولمپکس میں ناروے کی نمائندگی بھی کی۔ 1968 میں انہوں نے اپنی دیرینہ محبت سونیا ہیرالڈسن سے شادی کی، جو بعد میں ناروے کی ملکہ بنیں۔ شاہی جوڑے کے دو بچے، ولی عہد ہاکون اور شہزادی مارٹھا لوئیس ہیں۔
بادشاہ ہیرالڈ کو ناروے کی جدید اور نسبتاً عوام دوست بادشاہت کے لیے بھی جانا جاتا تھا۔ انہوں نے اپنی حکمرانی کے دوران جمہوریت، آزادی، مذہبی رواداری، مہاجرین اور ایل جی بی ٹی کیو برادری کے حقوق کے حق میں بھی آواز اٹھائی۔
سال 2011 میں دائیں بازو کے انتہا پسند اینڈرس بریوک کے حملوں میں 77 افراد کی ہلاکت کے بعد بادشاہ ہیرالڈ نے ایک جذباتی خطاب میں آزادی اور کھلے معاشرے پر یقین کا اظہار کیا تھا۔
ناروے میں بادشاہ کا کردار زیادہ تر علامتی ہے، جبکہ ملک کے حقیقی سیاسی اختیارات منتخب پارلیمان اور حکومت کے پاس ہیں۔
بادشاہ ہیرالڈ کی صحت گزشتہ برسوں میں متعدد مرتبہ متاثر ہوئی۔ 2024 میں ملائیشیا کے دورے کے دوران انہیں پیس میکر لگایا گیا تھا، جبکہ رواں برس اسپین کے جزیرے ٹینریفے میں چھٹیوں کے دوران جلد کے انفیکشن کے باعث بھی انہیں اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔
ہیرالڈ پنجم کے انتقال کے بعد اب ناروے کی بادشاہت کی ذمہ داری ان کے بیٹے بادشاہ ہاکون ہشتم نے سنبھال لی ہے











