نیپال اور چین کے خودمختار علاقے تبت میں تباہ کن سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے سے بڑے پیمانے پر تباہی، ہلاکتوں کی تعداد 552 تک پہنچ گئی جبکہ دونوں جانب 1400 سے زائد افراد تاحال لاپتا ہیں۔
دو روز قبل (26 اگست) کو آنے والے سیلاب نے سونامی جیسی شدت کے ساتھ نیپال اور تبت کے سرحدی علاقوں میں تباہی مچائی، کئی دیہات صفحہ ہستی سے مٹ گئے جبکہ سڑکیں اور پل بہہ جانے کے باعث امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
نیپال میں حکام کے مطابق کم از کم 547 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں، جبکہ چینی حکام نے تبت میں مزید 5 ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔
ریڈ کراس کے مطابق ابتدائی اندازوں کے تحت تقریباً 93 ہزار افراد اس قدرتی آفت سے متاثر ہوئے ہیں، جبکہ ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
ریڈ کراس کے نمائندے ڈیوڈ فشر کا کہنا ہے کہ تباہی سے پیدا ہونے والا صدمہ انتہائی شدید ہے، جبکہ متعدد متاثرہ علاقوں تک سڑکوں اور پلوں کی تباہی، موبائل سروس اور بجلی کی بندش کے باعث رسائی ممکن نہیں ہوسکی۔
چین کے علاقے تبت میں امدادی ٹیمیں تباہی کے مرکزی مقام تک پہنچ گئی ہیں۔ چینی سرکاری میڈیا کے مطابق تبت اور سیچوان کی فائر اینڈ ریسکیو ٹیموں کے اہلکاروں سمیت ایک تربیت یافتہ کتا بھی مرکزی ریسکیو سائٹ تک پہنچا ہے۔
دوسری جانب نیپال میں ایک اور سیلابی ریلے کے خطرے کے پیش نظر شہریوں کو محفوظ اور بلند مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔
نیپالی حکام نے تبت میں ایک ڈیم ٹوٹنے کی اطلاع کے بعد الرٹ جاری کیا، جبکہ چین نے ملبے سے بننے والی ایک جھیل کے پانی کی سطح بڑھنے کے باعث عارضی طور پر ریسکیو آپریشن روک دیا۔ بعد میں چینی حکام نے کہا کہ جھیل سے پیدا ہونے والا خطرہ کم ہوگیا ہے اور امدادی کارروائیاں دوبارہ منظم انداز میں جاری ہیں۔
نیپال نے عالمی برادری سے مالی امداد کی اپیل کردی ہے، تاہم فی الحال غیرملکی ریسکیو ٹیموں کی ضرورت سے انکار کیا گیا ہے۔ چین کے صدر شی جن پنگ نے بھی نیپال کو مدد کی پیشکش کی ہے۔
ادھر تبت میں پھنسے 555 سیاحوں سمیت سینکڑوں افراد کو متاثرہ علاقے سے نکال لیا گیا ہے۔
نیپال میں تریشولی تھری اے ہائیڈرو پاور منصوبے کی سرنگ میں بھی 100 سے زائد افراد کے پھنسے ہونے کی اطلاع ہے۔ فوج نے متاثرین کا سراغ لگا لیا ہے اور دو ہیلی کاپٹر بھی امدادی کارروائی کے لیے روانہ کیے گئے ہیں۔
ادھر بھارت میں نیپال سے آنے والے دریاؤں سے 7 لاشیں برآمد ہوئی ہیں، جن کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ سیلاب کے متاثرین کی ہیں۔











