اہم ترین

دم بنی قدرتی فنگر پرنٹ : اے آئی سے ہزاروں وہیلز کی شناخت

برازیل کے ساحل سے دور ابروہوس میرین نیشنل پارک میں ایک ایسا منظر دیکھنے کو مل رہا ہے جو چند دہائیاں قبل ناقابلِ تصور تھا۔ مادہ ہمپ بیک وہیلز اب اپنے لیے نر وہیلز کا انتخاب کر رہی ہیں، جبکہ نر ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے ہوئے پانی پر دم مارتے اور مادہ کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

یہ منظر دراصل ایک بڑی ماحولیاتی کامیابی کی علامت ہے۔ 1980 کی دہائی میں جنوبی بحرِ اوقیانوس کی ہمپ بیک وہیلز معدومی کے قریب پہنچ گئی تھیں، لیکن اب ان کی تعداد تقریباً 35 ہزار ہوچکی ہے، جو دنیا بھر میں موجود ہمپ بیک وہیلز کی تعداد کا تقریباً نصف ہے۔

برازیل کے گرم ساحلی پانی جنوبی بحرِ اوقیانوس کی ہمپ بیک وہیلز کے لیے دنیا کے اہم ترین افزائشِ نسل کے علاقوں میں شمار ہوتے ہیں۔ مادہ وہیلز یہیں اپنے بچوں کو جنم دیتی اور دودھ پلاتی ہیں، جبکہ نر وہیلز مادہ کے ساتھ افزائشِ نسل کے لیے ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے ہیں۔

برازیل میں وہیلز کے تحفظ اور تحقیق کے لیے کام کرنے والے ہمپ بیک وہیل انسٹی ٹیوٹ کے بانی اینریکو مارکووالدی کے مطابق تقریباً چار دہائیاں قبل کسی کو یہ معلوم تک نہیں تھا کہ برازیل کے ساحلوں پر وہیلز موجود ہیں۔

مارکووالدی بتاتے ہیں کہ جب انہوں نے پہلی مرتبہ وہیل دیکھی تو اسے چٹان سمجھ بیٹھے تھے۔

صورت حال اس وقت تبدیل ہونا شروع ہوئی جب 1986 میں دنیا بھر میں تجارتی وہیل شکار پر پابندی عائد کی گئی۔ اس کے اگلے ہی سال برازیل نے بھی وہیل شکار پر پابندی عائد کردی اور بعد ازاں ابروہوس کے افزائشِ نسل کے علاقوں کو محفوظ علاقہ قرار دے دیا۔

2014 میں ہمپ بیک وہیل کو برازیل کی خطرے سے دوچار انواع کی فہرست سے بھی نکال دیا گیا۔

سائنس دان ان وہیلز کی نقل و حرکت، خاندانی تعلق اور ہجرت کے راستوں کا سراغ لگانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہے ہیں۔

ہر ہمپ بیک وہیل کی دم پر سفید اور سیاہ نشانات کا ایک منفرد نمونہ ہوتا ہے، جو انسان کے فنگر پرنٹ کی طرح اس کی شناخت میں مدد دیتا ہے۔

اب یہی کام مصنوعی ذہانت کی مدد سے پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے کیا جارہا ہے۔ ’ہیپی وہیل‘ نامی اے آئی پلیٹ فارم برازیل کی تقریباً 8,300 ہمپ بیک وہیلز کی شناخت کرچکا ہے۔

تحقیق کے دوران ایک ایسی وہیل بھی شناخت ہوئی جو برازیل میں دیکھی گئی تھی اور بعد میں 15 ہزار کلومیٹر سے زیادہ دور آسٹریلیا کے مشرقی ساحل کے قریب ریکارڈ کی گئی۔ یہ وہیلز کی طویل فاصلے تک ہجرت کا ایک غیرمعمولی ثبوت ہے۔

بالغ ہمپ بیک وہیلز کی لمبائی 16 میٹر تک جبکہ وزن تقریباً چھ ہاتھیوں کے برابر ہوسکتا ہے۔

اگرچہ وہیلز کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، لیکن خطرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ سمندری جہازوں کی آمدورفت، ماہی گیری کے جال اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث سمندری درجہ حرارت میں اضافہ اب بھی ان وہیلز کے لیے خطرہ ہے۔ گرم ہوتے سمندر ان کی خوراک، خصوصاً کرِل، کو متاثر کرسکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق جنوبی نصف کرۂ ارض میں وہیلز کی مختلف آبادیوں کے درمیان تعلق اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے جتنا پہلے تصور کیا جاتا تھا۔

ابروہوس جزیرہ نما کی سمندری حیاتیاتی اہمیت کو بھی عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے اور اسے حال ہی میں ہوپ اسپاٹ قرار دیا گیا ہے۔ یہ کہانی صرف وہیلز کی واپسی کی نہیں بلکہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ مؤثر تحفظ، شکار پر پابندی اور سائنسی تحقیق مل کر کسی خطرے سے دوچار نسل کو دوبارہ سمندر میں زندگی کی نئی جگہ دے سکتے ہیں۔

پاکستان