پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے سابق وزیر اعظم اور قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عمران خان کے بیٹوں کا انٹرویو نشر کرنے پر برطانوی چینل اسکائی اسپورٹس سے باضابطہ شکایت کردی۔
کرک انفو کے مطابق انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان لارڈز ٹیسٹ کے پہلے روز لنچ کے وقفے کے دوران نشر کیا گیا۔ سابق انگلش کپتان اور اسکائی اسپورٹس کے براڈکاسٹر مائیک ایتھرٹن نے عمران خان کے بیٹوں سلیمان اور قاسم خان سے گفتگو کی۔
انٹرویو میں دونوں بھائیوں نے اپنے والد کی صحت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ عمران خان کی جان کو خطرہ ہے۔ عمران خان گزشتہ تین برس سے جیل میں ہیں اور حالیہ ہفتوں میں ان کی صحت سے متعلق تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔
پی سی بی نے لنچ بریک سے قبل اسکائی اسپورٹس سے رابطہ کرکے انٹرویو نشر کرنے پر احتجاج کیا اور یہاں تک کہ یہ آپشن بھی زیرِ غور آیا کہ احتجاجاً پاکستانی کھلاڑی لنچ کے بعد میدان میں واپس نہ آئیں۔
پی سی بی کی جانب سے اعتراض کے بعد اسکائی اسپورٹس نے انٹرویو کی نشریات کچھ دیر کے لیے مؤخر کردیں، تاہم بعد میں تقریباً 18 منٹ پر مشتمل انٹرویو نشر کردیا گیا۔ تاہم پی ٹی وی نے عمران خان کے بیٹوں کا یہ انٹرویو نشر نہیں کیا۔
انٹرویو کے اختتام تک پاکستانی کھلاڑی دوسرے سیشن کے لیے میدان میں واپسی کی تیاری کر رہے تھے اور بالآخر پاکستان ٹیم مقررہ وقت پر میدان میں آئی۔
عمران خان کی صحت گزشتہ کئی ہفتوں سے توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ ان کے بیٹوں نے والد کو مناسب طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کردی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے پاکستان کی سپریم کورٹ نے عمران خان کو اسلام آباد کے شفا اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا، تاہم انہیں سرکاری اسپتال پمز لے جایا گیا اور طبی معائنے کے بعد دوبارہ جیل منتقل کردیا گیا۔
عمران خان کی بہنوں اور بیٹوں نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں عدالتی حکم کے مطابق علاج کی سہولت نہیں دی گئی اور ذاتی معالج سے معائنہ کرانے کا مطالبہ بھی کیا۔
گزشتہ ہفتے مائیک ایتھرٹن سمیت دنیا کے مختلف ممالک کے 22 سابق کرکٹ کپتانوں نے بھی وزیر اعظم شہباز شریف کو خط لکھ کر عمران خان کو جیل میں مناسب طبی سہولیات فراہم کرنے کی اپیل کی تھی۔











