لارڈز میں کھیلے جارہے دوسرے ٹیسٹ کے دوسرے روز پاکستانی بیٹنگ لائن اپ انگلش بولنگ کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئی اور پوری ٹیم پہلی اننگز میں صرف 110 رنز بنا کر پویلین واپس لوٹ گئی۔
انگلینڈ نے اپنی پہلی اننگز میں 290 رنز اسکور کیے تھے، یوں پاکستان کو 180 رنز کے خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستانی ٹیم کی جانب سے صرف نوجوان بیٹر اذان اویس نے مزاحمت دکھائی اور 46 رنز کی اننگز کھیلی، جبکہ سعود شکیل 16 رنز کے ساتھ دوسرے نمایاں بیٹر رہے۔
پاکستان کے بیشتر بیٹرز انگلش فاسٹ بولرز کے سامنے بے بس دکھائی دیے۔ شان مسعود ایک، عبداللہ شفیق 5، بابر اعظم 8، محمد رضوان 7، محمد عباس 2، علی عثمان ایک اور خرم شہزاد ایک رن بنا سکے۔ ٹیم کے آٹھ بیٹرز 10 رنز کا ہندسہ بھی عبور نہ کرسکے۔
اوپنر امام الحق پنڈلی کی تکلیف کے باعث بیٹنگ کے لیے میدان میں نہیں اتر سکے۔
انگلینڈ کی طرف سے اولی رابنسن نے شاندار بولنگ کرتے ہوئے 4 پاکستانی کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، جبکہ جوفرا آرچر نے 3 وکٹیں اپنے نام کیں۔
اس سے قبل انگلینڈ نے دوسرے روز اپنی پہلی اننگز کا آغاز 9 وکٹوں کے نقصان پر 248 رنز سے کیا۔ گس اٹکنسن 34 اور جوش ٹنگ ایک رن پر ناٹ آؤٹ تھے۔ دونوں نے مجموعے میں 42 رنز کا اضافہ کیا اور انگلش ٹیم کو 290 رنز تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
انگلینڈ کی آخری وکٹ گس اٹکنسن کی صورت میں گری، جو 45 رنز بنا کر علی عثمان کی گیند پر آؤٹ ہوئے۔
انگلش اننگز میں جیمی اسمتھ 61 اور جارڈن کوکس 55 رنز کے ساتھ نمایاں رہے اور دونوں نے نصف سنچریاں اسکور کیں۔ بین ڈکٹ اور لارینس نے 17،17، ہیری بروک نے 15 جبکہ جوفرا آرچر نے 14 رنز بنائے۔
پاکستان کی جانب سے محمد عباس نے سب سے زیادہ 4 وکٹیں حاصل کیں، محمد علی نے 3 جبکہ خرم شہزاد اور علی عثمان نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔
خراب روشنی کے باعث پہلے روز کھیل ختم ہونے پر انگلینڈ نے 9 وکٹوں کے نقصان پر 248 رنز بنا لیے تھے، تاہم دوسرے روز آخری وکٹ سمیت مزید 42 رنز جوڑ کر میزبان ٹیم نے پاکستان کے لیے مشکلات بڑھا دیں











